امریکی اضافی ٹیرف کا خدشہ، بھارت نے جبری مشقت سے بنی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ کر لیا

بھارت نے جبری مشقت سے تیار کی گئی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی خبر ردساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی وزارتِ تجارت نے منگل کو بتایا کہ یہ اقدام امریکا کی جانب سے ممکنہ نئے محصولات سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت ان کئی ممالک میں شامل ہے جنہیں امریکا کی جانب سے اضافی محصولات کے خطرے کا سامنا ہے۔

امریکا کا الزام ہے کہ بعض ممالک جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔

بھارتی وزارتِ تجارت کے اعلامیے کے مطابق مرکزی حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جبری مشقت کے ذریعے مکمل یا جزوی طور پر تیار کی گئی مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگا سکے۔ اعلامیے کے مطابق بھارت کا غیر ملکی تجارت سے متعلق ادارہ اس بات کی تحقیقات کرے گا کہ آیا درآمد کی جانے والی کوئی مصنوعات جبری مشقت سے تیار ہوئی ہیں یا نہیں۔ اگر شواہد ملے تو متعلقہ ادارہ حکومت کو ان مصنوعات کی درآمد روکنے کی سفارش کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق یہ نیا ضابطہ اعلامیے کے 30 دن بعد نافذ ہو گا۔

اس وقت زیادہ تر بھارتی مصنوعات کو امریکا میں 10 فیصد محصولات کا سامنا ہے۔ تاہم واشنگٹن جبری مشقت اور صنعتی اضافی پیداوار سے متعلق الگ الگ تحقیقات کے ذریعے مزید سخت محصولات متعارف کرا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی تجارتی نمائندے نے بھارت اور پاکستان سمیت کئی معیشتوں کے خلاف نئے محصولات کی تجویز دی تھی۔ مجوزہ محصولات 10 سے 12.5 فیصد تک ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلے سے پہلے اس پر عوامی رائے لی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا یہ فیصلہ امریکا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات میں دباؤ کم کرنے اور اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں