ازبکستان اور آذربائیجان کے درمیان تاریخی معاہدے، نئے منصوبے اور باہمی تجارت بڑھانے پر اتفاق

آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے ازبکستان کے سرکاری دورے کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیش رفت ہوئی۔ صدر شوکت مرزائیوف اور صدر الہام علییف نے تاشقند میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے، سپریم بین الریاستی کونسل کے تیسرے اجلاس کی صدارت کی اور اسٹریٹجک شراکت داری و اتحادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

دورے کی سب سے اہم پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان ابدی دوستی کے معاہدے پر دستخط تھے۔ اس کے علاوہ پنشن، ثقافت، سیاحت، سرمایہ کاری اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی متعدد دستاویزات بھی طے پائیں، جبکہ دونوں ممالک نے 2030 تک باہمی تجارت ایک ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے خصوصی پروگرام منظور کیا۔

اقتصادی تعاون کے تحت توانائی، کیمیکل، کان کنی، زراعت، تعمیرات، بینکاری، سیاحت، رہائشی منصوبوں اور دیگر شعبوں میں نئے مشترکہ منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ٹرانس کیسپین راہداری کو مزید مؤثر بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان نقل و حمل اور تجارتی رابطے مضبوط کرنے پر بھی زور دیا۔

دورے کے دوران دونوں صدور نے ایک دوسرے کو اپنے ممالک کے اعلیٰ ترین ریاستی اعزازات سے بھی نوازا۔ صدر الہام علییف کو ازبکستان کا اولی درجلی دوستلیک آرڈر دیا گیا، جبکہ صدر شوکت مرزائیوف کو آذربائیجان کا حیدر علییف آرڈر پیش کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ان اعزازات کو دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور باہمی احترام کی علامت قرار دیا۔

صدر الہام علییف کو نیا تاشقند منصوبے کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ تقریباً 20 ہزار ہیکٹر پر تعمیر ہونے والے اس نئے شہر میں مستقبل میں 20 لاکھ افراد کی رہائش کا منصوبہ ہے۔ یہاں رہائشی عمارتیں، تعلیمی ادارے، میٹرو، پل، سبز مقامات، سرکاری ادارے اور جدید شہری سہولیات قائم کی جائیں گی۔

دونوں رہنماؤں نے نیا تاشقند میں نظامی گنجوی کے نام سے منسوب قومی تدریسی جامعہ کے نئے کیمپس کا افتتاح بھی کیا، جبکہ آذربائیجان پارک کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ چار ہیکٹر پر قائم ہونے والا یہ پارک آذربائیجان کی ثقافت، تاریخ اور قومی روایات کی عکاسی کرے گا، جبکہ باکو میں اسی طرز پر ازبکستان پارک تعمیر کیا جائے گا۔

صدر الہام علییف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ازبکستان اور آذربائیجان کے عوام صرف مشترکہ جڑوں اور ملتی جلتی زبانوں سے ہی نہیں بلکہ ایک گہرے روحانی رشتے سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی دوستی کو فولاد کی طرح مضبوط قرار دیا اور کہا کہ صدر شوکت مرزائیوف کی قیادت میں ازبکستان نے تیز رفتار ترقی کی ہے، جبکہ دونوں ممالک اب ایک ارب ڈالر کے تجارتی ہدف اور بڑے مشترکہ منصوبوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں