افغانستان کی پروکیورمنٹ کمیشن نے تقریباً 6.5 ارب افغانی، یعنی لگ بھگ 99 ملین ڈالر مالیت کے 21 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان منصوبوں میں ہسپتالوں کی تعمیر، پن بجلی ڈیم کی بحالی، بجلی کی فراہمی و تقسیم اور کسٹمز انفراسٹرکچر سے متعلق کام شامل ہیں۔ یہ خبر افغانستان کے سرکاری ادارے ارگ کے ریکارڈ سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔
افغان سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اجلاس نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر اخوند کی زیرِ صدارت مارمرین پیلس میں ہوا، جہاں مجموعی طور پر 34 منصوبے غور کے لیے پیش کیے گئے۔ ان میں سے 21 منصوبے منظور کیے گئے، جبکہ 12 منصوبوں میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔ ایک اور منصوبے کے بارے میں متعلقہ کمیٹی کو قیمت پر دوبارہ مذاکرات کی ہدایت کی گئی۔
منظور شدہ منصوبوں میں صوبہ کنڑ کے مناگی ہائیڈرو پاور ڈیم کی بحالی نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ کابل، ہرات، ننگرہار، بلخ اور خوست کے ہوائی اڈوں پر کسٹمز کے لیے اسکینرز کی خریداری بھی منصوبوں میں شامل ہے۔
صحت کے شعبے میں ہلمند میں کیڈر ہسپتال کے ساتھ ساتھ بدخشاں کے ضلع شغنان، میدان وردک کے ضلع چک اور کندز کے ضلع قلعہ زال میں جنرل ہسپتالوں کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ منصوبے افغانستان کے مختلف علاقوں میں طبی سہولیات کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
بجلی کے شعبے میں مختلف صوبوں میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم سے متعلق متعدد منصوبے بھی منظور کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور مختلف علاقوں میں بجلی کی دستیابی بہتر کرنا ہے۔