تاجکستان کے تاریخی شہر، خجند میں ازبکستان، تاجکستان اور کرغزستان کے صدور کے درمیان ایک اہم سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے میں استحکام، اقتصادی تعاون اور ثقافتی روابط کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اس اجلاس میں ازبکستان کے صدر، شوکت مرزائیوف، تاجکستان کے صدر، امام علی رحمان اور کرغزستان کے صدر، صدر جپاروف نے شرکت کی۔
سرحدی معاہدے کی منظوری
مذاکرات کے دوران، تینوں ممالک کے رہنماؤں نے رمضان، عید الفطر اور نوروز کی مبارکبادوں کا تبادلہ کیا اور خطے میں بھائی چارے اور خوشحالی کی خواہش کا اظہار کیا۔ ازبک صدر، مرزئیوف نے تاجکستان اور کرغزستان کے ساتھ تمام سرحدی تنازعات کے حل اور ایک تاریخی سرحدی معاہدے کے دستخط پر مبارکباد پیش کی۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کی مشترکہ سرحد کے جنکشن پوائنٹ پر ایک تاریخی معاہدہ طے پایا، جو خطے میں پائیدار استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔
اس معاہدے کی روشنی میں، ایک نیا ‘یادگار دوستی’ تعمیر کیا گیا ہے، جو تینوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور اعتماد کی علامت کے طور پر کام کرے گا۔

تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق
صدر مرزائیوف نے سہ فریقی تجارتی تعلقات میں اضافے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ، گزشتہ برسوں میں ازبکستان اور کرغزستان و تاجکستان کے درمیان تجارتی حجم کئی گنا بڑھ چکا ہے، جس میں نصف سے زائد تجارت سرحدی علاقوں سے متعلق ہے۔
رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ،سرحدی کسٹم چیک پوائنٹس کی جدید کاری اور توسیع کی جائے گی،تجارتی اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے گا، تاکہ تینوں ممالک کے کاروباری حلقوں کو مزید سہولتیں فراہم کی جا سکیں،مشترکہ تجارتی پلیٹ فارم کے قیام پر غور کیا جائے گا، جس میں صنعتی اور زرعی مصنوعات کی مستقل نمائش اور فروخت کا اہتمام ہوگا۔ علاوہ ازیں، ازبکستان کے صدر نے اعلان کیا کہ، ان کے ملک میں قائم مشترکہ سرمایہ کاری فنڈز کے سرمایے میں اضافہ کیا جائے گا ،تاکہ تینوں ممالک میں صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی تعاون
اجلاس میں ٹرانسپورٹ روابط میں بہتری پر بھی غور کیا گیا، جس میں فضائی راستوں کی توسیع، نئے بین الاقوامی بس روٹس کے آغاز، اور سرحدی شہروں کو مزید قریب لانے کے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ پالیسیوں پر کام کرنے اور سبز توانائی منصوبوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

ثقافتی اور عوامی روابط کا فروغ
صدر مرزائیوف نے خطے میں ثقافتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ تقریبات کے انعقاد کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ، ہر سال نوروز کے موقع پر سرحدی علاقوں میں مشترکہ ثقافتی فیسٹیول اور موسیقی کے پروگرام منعقد کیے جائیں گے، اور آئندہ سال یہ جشن ازبک شہر فرغانہ میں منایا جائے گا۔
اجلاس کے دوران، صدور نے خجند کے تاریخی قلعے کا دورہ کیا اور وہاں کے آثار قدیمہ، ثقافتی ورثے اور تاجک عوام کی تاریخ سے متعلق نمائش کا مشاہدہ کیا۔ قلعہ کی تاریخ چھٹی اور پانچویں صدی قبل مسیح تک جا پہنچتی ہے، اور اس میں ایک میوزیم بھی قائم ہے جس میں 28 ہزارسے زائد نوادرات موجود ہیں۔

اختتامی تقریب اور تاریخی دستخط
اس سہ فریقی اجلاس کے اختتام پر، تینوں ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اور ‘تین ملکی سرحدی معاہدہ’ پر دستخط کیے، جس سے خطے میں ایک نئے دور کے آغاز کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اس موقع پر، ایک شاندار ثقافتی تقریب اور میوزیکل کنسرٹ بھی منعقد کیا گیا، جس میں تینوں ممالک کے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
ازبک صدر مرزائیوف نے اپنے خطاب میں کہاکہ،یہ تاریخی دن ہماری اقوام کے درمیان یکجہتی، بھائی چارے اور مشترکہ خوشحالی کا ایک نیا باب کھول رہا ہے۔ آج سے، ہماری سرحدیں بھائی چارے اور ترقی کے نئے مواقع کی علامت بن جائیں گی۔