ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے 31 جولائی کو کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے سربراہانِ مملکت کے غیر رسمی اجلاس میں شرکت کی، جس کے اختتام پر چولپون آتا اعلامیہ منظور کیا گیا۔
اجلاس میں آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے صدور نے شرکت کی۔ رہنماؤں نے علاقائی ترقی، اقتصادی تعاون، سلامتی، تجارت اور ٹرانسپورٹ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر بات چیت کی۔
صدر شوکت مرزائیوف نے کہا کہ آذربائیجان کی شمولیت سے وسطی ایشیا اور جنوبی قفقاز کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے مشترکہ ترقیاتی منصوبوں اور علاقائی روابط بڑھانے پر زور دیا۔
ازبک صدر نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، ڈیجیٹل سروسز، مصنوعی ذہانت، تعلیم اور سائنس کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا، خاص طور پر پانی اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ حل تلاش کرنے کی ضرورت پر بات کی۔