لکھنے کے لئے اے آئی پر انحصار دماغ کو کمزور بناتا ہے، نئی تحقیق

امریکہ کی معروف یونیورسٹی ایم آئی ٹی نے اپنی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ مضامین اور تحریری کاموں کے لیے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسانی دماغ کو کمزور کرتا ہے، یادداشت کو متاثر کرتا ہے اور تجزیاتی سوچ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
ایم آئی ٹی کی میڈیا لیب نے اپنی تحقیق میں شرکاء کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا:

1. برین اونلی: اس گروپ نے اپنی ذہنی صلاحیت کے بل پر مضامین لکھے۔
2. سرچ انجن گروپ : دوسرے گروپ نے انٹرنیٹ سرچ (جیسے گوگل) استعمال کیا۔
3. اے آئی ڈیپنڈڈ: تیسرے گروپ نے جدید زبان ماڈلز (جیسے ChatGPT) سے مدد لی۔

تحقیق کے نتائج چونکا دینے والے تھے۔ جو شرکاء صرف اپنے دماغ پر انحصار کر رہے تھے، ان کی یادداشت، تخلیقی صلاحیت اور سوچنے کی صلاحیت نمایاں طور پر بہتر رہی۔ دوسری طرف وہ افراد جو مسلسل اے آئی سے مدد لے رہے تھے، ان کی دماغی سرگرمی اور یاد رکھنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

EEG کے ذریعے نیورل کنیکٹیویٹی لی گئی:

برین اونلی گروپ نے سب سے زیادہ اور وسیع نیورل ایکٹیویشن دکھائی۔

سرچ انجن گروپ نے درمیانی سطح کا ردعمل ظاہر کیا۔

چیٹ جی پی ٹی گروپ نے سب سے کم دماغی مشغولیت دکھائی۔

بعد میں تجربے کے طور پر چیٹ جی پی ٹی گروپ والوں کو کہا گیا کہ اب صرف اپنی یاداشت اور ذہن کے سہارے مضمون لکھو تو ان کی ذہنی یکسوئی اور فوکس خاصا کم رہا۔

ماہرین کے مطابق، اے آئی پر زیادہ انحصار کرنے والے طلبہ اور صارفین اپنی تحریر کو *اپنی ذاتی کاوش* نہیں سمجھ پاتے، جس سے ان میں “ملکیت” (ownership) کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ اس رویے سے ان کی تخلیقی سوچ بھی متاثر ہوتی ہے اور دماغ کو وہ مشق نہیں ملتی جو مسلسل سیکھنے اور لکھنے سے آتی ہے۔

دی ٹائمز، نیویارک پوسٹ اور ہیرلڈ سن سمیت متعدد عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اس تحقیق پر رپورٹ شائع کی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی شارٹ کٹس نے بچوں اور نوجوانوں کی "تنقیدی سوچ اور ارتکاز (focus)” کو تباہ کر دیا ہے۔ آسٹریلیا اور امریکہ کے ماہرین تعلیم کے مطابق یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو نئی نسل کی ذہنی صلاحیتیں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔

تحقیق میں اس رویے کو “ڈیجیٹل ایمینیشیا” (Digital Amnesia) قرار دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ لوگ اپنی یادداشت پر بھروسہ کرنے کے بجائے سب کچھ مشینوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے دماغ کا وہ حصہ جو سیکھنے، یاد رکھنے اور تنقیدی سوچ کا ذمہ دار ہے، کمزور ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے اسے *ذہنی معاون* (assistant) کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ جب اے آئی کو “گائیڈ” یا “ٹیوٹر” کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ سیکھنے کے عمل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسے مکمل متبادل بنایا جائے تو یہ ذہنی کمزوری اور سوچنے کی صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں