امریکا اور سعودی عرب کے عراق میں مشترکہ فضائی حملے، مسلح گروہوں کے کم از کم 20 ارکان ہلاک

عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز، جسے الحشد الشعبی بھی کہا جاتا ہے، نے عراق میں اپنے ٹھکانوں پر امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ فضائی حملوں کو خطرناک کشیدگی اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

الحشد الشعبی کے مطابق مختلف مقامات پر کیے گئے ان حملوں میں فورس کے 20 ارکان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب اور امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عراق میں موجود ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو نشانہ بنایا گیا، جو امریکی فوجیوں اور سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں میں ملوث تھے۔

سعودی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی کارروائی حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔ سعودی حکام کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے کئی ایسے ڈرونز کو تباہ کیا تھا، جو مشرقی صوبے اور دارالحکومت ریاض میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

سعودی عرب نے الزام عائد کیا کہ یہ ڈرون عراق کی سرزمین سے ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی جانب سے بھیجے گئے تھے۔ سعودی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ مملکت کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتی، تاہم اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔
الحشد الشعبی نے مشترکہ فضائی حملوں کو عراق کی خودمختاری اور اس کے سرکاری سکیورٹی اداروں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انتہائی خطرناک پیش رفت ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

الحشد الشعبی کئی عراقی مسلح گروہوں پر مشتمل ایک اتحاد ہے۔ اس میں شامل متعدد گروہوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے، تاہم عراقی قانون کے تحت یہ فورس ملک کے سرکاری سکیورٹی نظام کا حصہ ہے اور براہ راست وزیراعظم کو جواب دہ ہے، جو مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف بھی ہوتے ہیں۔

ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے اتحاد اسلامی مزاحمت عراق نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ گروہ نے سعودی الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ سعودی عرب کی کسی بھی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔

عراق میں الحشد الشعبی کی حیثیت طویل عرصے سے ایک حساس مسئلہ رہی ہے۔ اگرچہ یہ فورس قانونی طور پر عراق کے سکیورٹی اداروں کا حصہ ہے، لیکن بعض گروہوں پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ حکومت کے مکمل کنٹرول میں نہیں اور اپنی علیحدہ فوجی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔

امریکہ کا الزام ہے کہ الحشد الشعبی میں شامل بعض ایران نواز گروہ بغداد میں امریکی سفارت خانے اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق عراق کی سابق حکومتیں بھی ان مسلح گروہوں کو مکمل طور پر قابو میں رکھنے میں ناکام رہی ہیں، جبکہ بعض مواقع پر ان گروہوں نے سرکاری یا فوجی احکامات ماننے سے انکار کیا ہے۔

دوسری جانب عراقی وزیراعظم علی الزیدی کی جمعرات کو سعودی عرب روانگی متوقع ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب انہوں نے عراقی سکیورٹی اداروں کو سعودی عرب پر ہونے والے ڈرون حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں