پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص میں پیشاب کیسے مددگار ہو سکتا ہے؟

برطانوی سائنسدانوں نے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کے لیے ایک نئے اور سادہ ٹیسٹ کی کامیاب تیاری کا دعوی کیا ہے جو پیشاب کے نمونوں کی مدد سے مرض کی نہ صرف جلد، بلکہ درست تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جرنل کینسر ریسرچ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، سائنسدانوں نے پیشاب میں ایسے مخصوص مالیکیولز کی شناخت کی ہے جو پروسٹیٹ کینسر کی موجودگی اور اس کی شدت کی نشاندہی میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ مالیکیولز موجودہ روایتی بلڈ ٹیسٹ، جیسے ‘پی ایس اے’ ٹیسٹ، کے مقابلے میں کہیں زیادہ درست نتائج فراہم کرتے ہیں۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے ہزاروں مریضوں کے ٹیومرز کا تفصیلی تجزیہ کرکے مختلف ‘ڈیجیٹل ماڈیولز’ بنائے، جن میں کینسر کے درجے اور اس کی جگہ کے مطابق معلومات ترتیب دی گئیں۔ ان ماڈیولز کا تجزیہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے کیا گیا، تاکہ ایسے مخصوص پروٹینز کی نشاندہی ہو سکے جو ممکنہ طور پر بیماری کے بایو مارکرز ثابت ہو سکتے ہیں۔

نئے ٹیسٹ کی تیاری کے بعد محققین نے تقریبا2 ہزار مریضوں کے خون، پیشاب اور پروسٹیٹ ٹشوز کے نمونے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کیا۔ ان تجربات سے یہ واضح ہوا کہ، پیشاب کے ذریعے کینسر کی نشاندہی نہ صرف ممکن ہے، بلکہ یہ طریقہ مؤثر، غیر پیچیدہ اور تیز تر ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ، اس ٹیسٹ کی مدد سے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں کی جا سکے گی، جس سے علاج کا آغاز بروقت ممکن ہوگا اور مریض کی جان بچانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

یاد رہے کہ، پروسٹیٹ کینسر دنیا بھر میں مردوں میں موت کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور ہزاروں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ فی الحال اس کی تشخیص کے لیے ‘پروٹین پروسٹیٹ-اسپیسیفک اینٹیجن’ نامی خون کا ٹیسٹ استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اس میں درستگی کے مسائل پائے جاتے ہیں، جنہیں پیشاب سے ہونے والا یہ نیا ٹیسٹ کافی حد تک حل کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں