اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ امدادی فنڈز میں کمی نے خطرناک حد تک بھوک کے بحران کا خطرہ بڑھا دیا ہے، اور تقریباً تیرہ اعشاریہ سات ملین (یعنی ایک کروڑ سینتیس لاکھ) افراد شدید غذائی قلت کا سامنا کر سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ کئی ممالک میں انسانی امداد فراہم کرنے کی صلاحیت محدود ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی رقوم میں چالیس فیصد کمی متوقع ہے، جس کے باعث اس کا بجٹ اس سال تقریباً چھ اعشاریہ چار ارب ڈالر رہ جائے گا، جو پچھلے برس کا دس ارب ڈالر تھا۔
رپورٹ کے مطابق، موجودہ امداد کی کمی بحران کی سطح سے ہنگامی حالت تک پہنچنے کا خدشہ ہے، یعنی وہ ممالک جو پہلے ہی شدید غذائی مشکلات کا شکار تھے، اب بالکل قحط کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔
زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں افغانستان، کانگو، ہیٹی، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور سوڈان شامل ہیں۔ ان ممالک میں رہنے والے لاکھوں افراد پہلے ہی غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، اور امدادی کمی ان کی حالت کو مزید خراب کر سکتی ہے۔
عالمی خوراک پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مک کین نے کہا ہے کہ امدادی فنڈنگ اور ضرورت کے درمیان فرق پہلے کبھی اتنا زیادہ نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کمی کئی دہائیوں سے حاصل ہونے والی انسانی ترقی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ساحل کے خطے میں پہلے تقریباً پانچ لاکھ افراد کو خود کفالت کے مرحلے تک پہنچایا گیا تھا، لیکن امدادی کٹوتیاں اس کامیابی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مقامی برادریوں کے ترقیاتی منصوبے اور خود انحصاری کے اقدامات بھی متاثر ہو سکتے ہیں.