یوکرینی صدر زیلنسکی نے تلخ کلامی پر ٹرمپ سے معافی مانگ لی، امریکی مندوب کا دعویٰ

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس میں تلخ کلامی پر ٹرمپ سے معافی مانگ لی ہے۔ ان کے مطابق زیلنسکی نے ٹرمپ کو ایک خط بھیجا ہے جس میں انہوں نے اوول آفس میں ہونے والے واقعے پر معذرت کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ تنازع کچھ دن پہلے اس وقت پیدا ہوا تھا جب زیلنسکی اور ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ایک ملاقات ہوئی جو تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد خراب ہو گئی۔ ٹرمپ نے بعد میں زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے یہ کہہ کر رخصت کر دیا کہ جب وہ امن کے لیے سنجیدہ ہوں گے تو دوبارہ واپس آ سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے بھی سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ زیلنسکی کو حقیقت پسندی اختیار کرنی ہوگی اور اگر وہ شکر گزاری کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتے تو یوکرین کی قیادت کسی اور کو کرنی چاہیے۔

ابتدائی طور پر زیلنسکی نے تلخ کلامی کے بعد معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں جو کچھ ہوا وہ اچھا نہیں تھا، اور اگرچہ وہ حالات کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں، لیکن وہ دوبارہ وائٹ ہاؤس واپس جانے کو تیار نہیں۔ تاہم، اب اطلاعات ہیں کہ انہوں نے ٹرمپ کو خط لکھ کر معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی ہے، جو یوکرین اور امریکہ کے تعلقات کے استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس خط کے بعد ایک اور بڑی پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف ماسکو کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ تاہم، اس ملاقات کی حتمی تاریخ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سفارتی سرگرمیاں امریکہ، یوکرین، اور روس کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب یوکرین میں جاری جنگ عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

یہ دیکھنا باقی ہے کہ زیلنسکی کی معذرت کا امریکہ، یوکرین اور روس کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا اور آیا اس سے یوکرین کے لیے امریکی امداد اور حمایت میں کوئی اضافہ ہوگا یا نہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں