برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ستمبر تک ایسے نظام نافذ کریں جو بچوں کے موبائل فونز اور ٹیبلٹس پر نامناسب اور عریاں تصاویر کو روک سکیں، ورنہ ان کے خلاف قانون سازی کی جائے گی۔
وزیرِاعظم کے مطابق ایپل اور گوگل جیسی کمپنیوں کو ایسے سافٹ ویئر یا سسٹمز متعارف کرانے ہوں گے جو تصاویر میں غیر مناسب مواد کو خودکار طور پر شناخت کر کے روک سکیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے نہ ایسی تصاویر بھیج سکیں اور نہ ہی وصول کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے صارف کی عمر کی تصدیق بھی لازمی قرار دی جائے گی۔
دی وائرڈ کے مطابق، اگر تین ماہ کے اندر کمپنیاں اس ہدایت پر عمل نہ کریں تو حکومت قانون لا کر یہ شرط لازمی کر دے گی۔ ایسی صورت میں خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں اور ان کے اعلیٰ عہدیداروں کو قانونی ذمہ داری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں بچوں کے ساتھ آن لائن جنسی استحصال کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نیشنل کرائم ایجنسی کو ہر ہفتے تقریباً 1 ہزار 700 شکایات موصول ہو رہی ہیں، جبکہ زیادہ تر کیسز میں متاثرہ بچے خود ایسی تصاویر کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
حکام کے مطابق آن لائن گومنگ اور بلیک میلنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، اور بعض منظم گروہ ان مواد کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت ایسے نظام بھی متعارف کرائے جائیں گے جو بچوں کو نامناسب مواد سے بچائیں گے، جبکہ بالغ افراد عمر کی تصدیق کے بعد اس قسم کا مواد استعمال کر سکیں گے۔