عمتحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کی کسی بھی کوشش کو ‘ریڈ لائن’ عبور کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ مزید کہا ہے کہ یہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے والے ابراہم معاہدے کی روح کو نقصان پہنچائے گا، بلکہ اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کو بھی خطرے میں ڈالے گا۔
یو اے ای کی اعلیٰ عہدیدار، لانا نصیبہ نے کہا کہ ایسا اقدام خطے میں امن کی کوششوں پر منفی اثر ڈالے گا۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے یو اے ای کے اس موقف کا خیر مقدم کیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکومت نے فی الحال اس پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ خزانہ بیزل سموٹریچ نے مغربی کنارے کے بیشتر حصے کو ضم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد اس علاقے پر قبضہ کر کے اب تک 160 بستیاں قائم کی ہیں جن میں تقریبا سات لاکھ یہودی رہائش پذیر ہیں، جبکہ وہاں 33 لاکھ فلسطینی بھی بستے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق، یہ بستیاں غیر قانونی ہیں۔
یاد رہے کہ 2020 میں امریکہ کی ثالثی سے ہونے والے ابراہم معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے، اور اس معاہدے کی ایک شرط یہ تھی کہ اسرائیل مغربی کنارے کے انضمام کے منصوبے معطل کرے۔ تاہم، نیتن یاہو کی حکومت نے ان منصوبوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے میز پر رکھ دیا تھا، یعنی زیر غور رکھا۔
موجودہ حکومتی اتحاد کے کئی وزراء اب بھی ان منصوبوں کی حمایت کرتے ہیں اور حالیہ دنوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے بعض یورپی ممالک کے فیصلوں کے جواب میں ان پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے۔