امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چینی ساختہ ڈیٹا سینٹر آلات کے نئے ماڈلز کی امریکا میں درآمد پر پابندی عائد کرنے کا مسودہ تیار کر رہی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے کو سہارا دینے والے امریکی ڈیٹا سینٹرز اور ان کی سپلائی چین کو ممکنہ سکیورٹی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔
معاملے سے واقف چار ذرائع نے بتایا کہ امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن چینی آپٹیکل ٹرانسیورز کے نئے ماڈلز کی درآمد روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ یہ آلات فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے ڈیٹا سینٹرز کے اندر انتہائی تیز رفتاری سے معلومات منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ چینی کمپنیاں ان آلات کے ذریعے ڈیٹا چوری، نقصان دہ سافٹ ویئر کی تنصیب یا ڈیٹا سینٹرز کی خدمات میں خلل ڈال سکتی ہیں۔ ان مراکز میں وہ جدید چپس نصب ہوتی ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت اور انہیں چلانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ پابندی رواں سال شائع ہونے کے بعد نافذ ہو سکتی ہے، تاہم فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن اس میں تبدیلی یا اسے مکمل طور پر مؤخر بھی کر سکتا ہے۔ منصوبے کے تحت نئے ٹرانسیور ماڈلز کی درآمد پر عمومی پابندی لگانے کے بعد چین کے علاوہ کئی دیگر ممالک کے سپلائرز کو استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔
فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن اس سے قبل چینی ڈرونز، راؤٹرز، روبوٹس اور انورٹرز پر بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ اے ڈبلیو ایس، کوہیرنٹ اور لومینٹم نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔