افغانستان میں ہیپاٹائٹس سمیت متعدی بیماریوں کے علاج تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ملک میں ہیپاٹائٹس بی کے ہزاروں مریض علاج کی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ یورپی یونین کے مالی تعاون سے مغربی افغانستان کے صوبے ہرات میں متعدی بیماریوں کے مریضوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کی 15 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں 2025 کے دوران طبی مراکز میں ہیپاٹائٹس بی کے 43 ہزار 161 مثبت مریض ریکارڈ کیے گئے۔ افغانستان کے قومی پروگرام برائے ہیپاٹائٹس کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمان شیرندل کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں سے صرف پانچ فیصد کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی مالی معاونت سے ہرات کے 150 بستروں پر مشتمل متعدی امراض کے ہسپتال میں ادویات، تشخیصی ٹیسٹ اور دیگر ضروری طبی خدمات کی فراہمی جاری ہے۔ رواں سال اب تک اس ہسپتال میں 52 ہزار 325 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں 48 ہزار 211 بیرونی مریض اور چار ہزار 114 داخل مریض شامل ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت نے اپنی رپورٹ میں ہرات کے ضلع شین ڈنڈ کی رہائشی 32 سالہ سیا موئے کا ذکر بھی کیا ہے، جو ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا تھیں۔ مقامی طبی مراکز سے علاج کے باوجود ان کی حالت بہتر نہ ہوئی تو انہیں 100 کلومیٹر سے زائد سفر کرکے ہرات آنا پڑا۔ ہسپتال میں داخلے اور علاج کے 20 روز بعد ان کی صحت میں بہتری آنا شروع ہوئی۔
افغانستان میں عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے ڈاکٹر ایڈون سینیزا سلواڈور نے کہا ہے کہ ضروری طبی سہولیات تک رسائی کسی شخص کی مالی حیثیت پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق یورپی یونین کی معاونت سے ضرورت مند مریضوں کو بروقت تشخیص، علاج اور ادویات کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہرات کا یہ ہسپتال صوبے اور ملحقہ علاقوں کے مریضوں کے لیے اہم طبی مرکز ہے۔ ادارے نے ہسپتال کے عملے کی خصوصی تربیت بھی کی ہے تاکہ علاج کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم افغانستان میں دور دراز علاقوں سے ہسپتالوں تک سفر، علاج کے اخراجات اور خصوصی طبی خدمات کی محدود دستیابی اب بھی مریضوں کے لیے بڑی مشکلات ہیں۔