ہیپاٹائٹس بی کے علاج میں پیش رفت، امریکہ نے نئی دوا کی منظوری دے دی

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے دائمی ہیپاٹائٹس بی کے علاج کے لیے نئی دوا ’ہبساگو‘ (Hibsago) کی منظوری دے دی ہے۔ یہ دوا اپنی نوعیت کی پہلی منظور شدہ اینٹی سینس اولیگونوکلیوٹائڈ تھراپی ہے، جسے پہلے سے استعمال ہونے والی اینٹی وائرل ادویات کے ساتھ ملا کر دیا جائے گا۔ طبی تحقیق کے مطابق اس علاج سے بعض مریضوں میں وائرس کو طویل عرصے تک قابو میں رکھنے اور مخصوص شرائط پوری ہونے پر پہلے سے استعمال ہونے والی ادویات بند کرنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

ہیپاٹائٹس بی ایک وائرل انفیکشن ہے جو جگر کو متاثر کرتا ہے اور طویل عرصے تک برقرار رہنے کی صورت میں جگر کے سکڑنے، جگر کے کینسر اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس بیماری کے بہت سے مریضوں کو وائرس کو دبانے کے لیے کئی سال تک اینٹی وائرل ادویات استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ تاہم موجودہ علاج عام طور پر وائرس کو قابو میں رکھتا ہے اور ہر مریض میں اس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔

ایف ڈی اے کے مطابق ہبساگو ان بالغ مریضوں کے لیے منظور کی گئی ہے جنہیں جگر کا سروسس نہیں ہے، جو کم از کم چھ ماہ سے ہیپاٹائٹس بی کی اینٹی وائرل دوا استعمال کر رہے ہیں اور جن کے خون میں وائرس کی سطح پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ مریضوں کے خون میں ہیپاٹائٹس بی سرفیس اینٹی جن (HBsAg) کی سطح 3 ہزار انٹرنیشنل یونٹس فی ملی لیٹر یا اس سے کم ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ دوا جلد کے نیچے انجیکشن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ 24 ہفتوں تک دی جاتی ہے۔

دو کلینیکل ٹرائلز کے نتائج کے مطابق ہبساگو استعمال کرنے والے 24 فیصد مریض مقررہ طبی اور لیبارٹری شرائط پوری کرنے کے بعد اپنی پہلے سے جاری اینٹی وائرل دوا بند کرنے کے قابل ہوئے، جبکہ پلیسیبو استعمال کرنے والے گروپ میں ایسا کوئی مریض نہیں تھا۔ مزید یہ کہ تمام علاج بند کرنے کے 24 ہفتے بعد ہبساگو لینے والے 19 فیصد مریضوں میں وائرس قابو میں رہا اور خون میں ہیپاٹائٹس بی کی موجودگی ظاہر کرنے والا مخصوص پروٹین بھی قابلِ شناخت نہیں تھا۔

تاہم نئی دوا کے ساتھ کچھ سنگین طبی خطرات بھی وابستہ ہیں۔ ایف ڈی اے نے اس کے لیے خصوصی وارننگ جاری کی ہے، جس میں جگر کے شدید ردعمل اور خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہونے کے خطرات شامل ہیں۔ پلیٹ لیٹس کی کمی کے باعث خون بہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گردوں کے افعال متاثر ہونے اور خون کی شریانوں میں سوزش جیسے مضر اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی لیے علاج کے دوران باقاعدہ خون کے ٹیسٹ اور طبی نگرانی ضروری قرار دی گئی ہے۔

امریکی ادارے کے مطابق ہبساگو کی منظوری سے دائمی ہیپاٹائٹس بی کے مخصوص مریضوں کے لیے علاج کا ایک نیا امکان پیدا ہوا ہے، تاہم اسے بیماری کے مکمل اور یقینی خاتمے کا علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوا صرف ان مریضوں کے لیے موزوں ہے جو مقررہ طبی شرائط پر پورا اترتے ہوں، جبکہ اس کے استعمال اور موجودہ ادویات بند کرنے کا فیصلہ معالج کی نگرانی میں کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں