امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریاست کنساس اور آئیووا میں اپنے دو انتخابی جلسے منسوخ کر دیے ہیں۔ مسلسل انتخابی مہم اور سفر سے متعلق سوال پوچھنے پر ٹرمپ ایک صحافی پر برہم ہو گئے اور اسے سخت الفاظ میں جواب دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، جمعرات کو جنوبی کیرولائنا میں انتخابی مہم سے واپسی پر ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ مسلسل سفر سے تھک جانے یا طبیعت ناساز ہونے کے باعث کنساس کا دورہ منسوخ کر رہے ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’تمہارا یہ سوال ہی بیمار ذہنیت کا عکاس ہے، میں بالکل ٹھیک ہوں، تم انتہائی ناگوار شخص ہو۔‘‘
ٹرمپ نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کنساس جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ وہاں ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کی انتخابی مہم اچھی چل رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منگل کو ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن جماعت بہتر نتائج حاصل کرے گی۔
ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے مطابق کنساس کے شہر سلائنا میں ہفتے اور آئیووا کے شہر ڈوبیوک میں اتوار کو ہونے والے جلسے منسوخ کیے گئے ہیں۔ ان کی جگہ ٹرمپ مختلف ریاستوں میں ٹیلی فون کے ذریعے انتخابی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔ ان کی حمایت یافتہ تنظیم میگا انکارپوریٹڈ نے کم از کم 19 ریاستوں میں ایسے اجتماعات کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ یکم اکتوبر سے اب تک امریکہ کی 19 ریاستوں میں 25 انتخابی جلسوں سے خطاب کر چکے ہیں۔ رواں ہفتے ریاست مسیسیپی میں ایک جلسے کے دوران ان کی آواز بھاری محسوس ہوئی تھی، جس پر انہوں نے مسلسل تقاریر کی مشکلات کا ذکر کیا تھا۔ تاہم، ٹرمپ نے اپنی صحت سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر ٹھیک ہیں۔
امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں کے لیے مقابلہ ہوگا۔ ریپبلکن جماعت دونوں ایوانوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اسے چیلنج کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا جمعہ کو فلوریڈا میں انتخابی جلسہ بھی طے ہے، جس کے بعد انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔