پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے دیے گئے بیانات اور اقدامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ، نئی دہلی دھمکیوں، غلط بیانی اور طاقت کے استعمال سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوموار کے روز جاری کردہ بیان میں واضح کیا کہ، خطے میں عدم استحکام کا الزام پاکستان پر عائد کرنا حقیقت کے منافی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ، بھارت کی قیادت کی حالیہ زبان اور رویے عالمی برادری کے سامنے اس کی خطرناک سوچ کو آشکار کرتے ہیں، جو امن سے زیادہ تصادم کو ترجیح دیتی ہے۔ ترجمان نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ، وہ علاقائی کشیدگی میں اضافے کا ذمہ دار ہے اور امن کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کشمیر کا دیرینہ تنازع ہے۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ، پاکستان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کا حامی ہے اور اس مؤقف پر قائم رہے گا۔
ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ، پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے لیکن کسی بھی جارحیت کی صورت میں اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ، تمام فریق سنجیدگی، بردباری اور حقیقی مسائل کے حل پر توجہ دیں، نہ کہ وقتی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے اشتعال انگیزی کو ہوا دی جائے۔