صدر شوکت مرزائیوف نے سلووینیا کا اپنا تاریخی سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے۔ یہ گزشتہ 20 برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس تھا، جسے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران صدر مرزائیوف نے سلووینیا کی صدر ناتاشا پیرک موسار، وزیراعظم رابرٹ گولوب، اور قومی اسمبلی کی صدر ارسکا کلاکوجار زوپانچچ سے اہم ملاقاتیں کیں۔ بات چیت میں سیاست، معیشت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، ماحولیاتی تحفظ، ثقافت، سیاحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں باہمی تعاون کے امکانات زیر بحث آئے۔
اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اور مختلف بین الحکومتی و بین الاداراتی معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن سے ترجیحی شعبوں میں تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔
دورے کا اہم ترین پہلو “ازبکستان-سلووینیا بزنس فورم” تھا، جس میں دونوں ممالک کے صدور اور تقریباً 100 معروف کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
لیوبلیانا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سلووینیا کے وزیر داخلہ بوسٹیان پوکلکار اور دیگر اعلیٰ حکام نے معزز مہمان کو الوداع کہا۔ صدر مرزائیوف بعد ازاں تاشقند روانہ ہو گئے۔