بھارت میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں اور عملے کا پہلا گروپ، جس میں 30 افراد شامل ہیں، بھارت سے وطن واپس پہنچ گیا ہے۔ اس گروپ میں سفارت کاروں کے ساتھ ان کے اہل خانہ بھی شامل ہیں۔
پاکستان نے نئی دہلی میں اپنے ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد 55 سے کم کر کے 30 کر دی ہے، اور واپس آنے والے تمام افراد اب مستقل طور پر پاکستان میں قیام کریں گے۔
یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت ہے، کیونکہ پہلی بار دونوں فریقین نے متفقہ طور پر سفارتی عملے کی تعداد محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستان پر الزامات عائد کیے اور سختاقدامات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ بھارت نے نہ صرف سندھ
طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا، بلکہ پاکستان کے سفارتی عملے کو 30 اپریل 2025 تک ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی جاری کی، ساتھ ہی پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے جیسے یکطرفہ اقدامات بھی کیے گئے۔
پاکستان نے اس صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کے ذریعے واضح پیغام دیا کہ، اگر بھارت نے پانی بند کیا تو پاکستان اسے ’اعلان جنگ‘ تصور کرے گا۔ ساتھ ہی پاکستان نے بھی بھارتی سفارت کاروں کی تعداد 30 تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا اور کئی دو طرفہ معاہدے معطل کرنے کا عندیہ دیا۔
جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے، بالخصوص جب پاکستان نے جعفر ایکسپریس حملے کا الزام بھی بھارت پر عائد کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پہلگام واقعے کی غیر جانبدار عالمی تحقیقات تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔