اسرائیلی جیلوں میں خوفناک جنسی زیادتیوں کے انکشافات، امریکی صحافی نکولس کرسٹوف نے اپنے کالم میں کیا لکھا؟

“آدھے درجن اسرائیلی فوجیوں نے لوہے کے ایک ڈنڈے کے ذریعے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ میری حالت خراب ہوئی تو جیل کے اندر ایک کلینک منتقل کیا گیا۔ کچھ دیر بعد نیند سے بیدار ہوا توا معلوم پڑا کہ مجھے دوسری بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ میں نے ایک کاغذ اور پن مانگا تاکہ اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کی شکایت لکھ سکوں لیکن انکار کیا گیا۔ رات کو وہ اسرائیلی فوجی دوبارہ آئے اور مجھے تیسری مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔”

یہ کہانی ایک کسان کی ہے جسے اسرائیلی فوج نے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے صحافی نکولس کرسٹوف نے ان کا دکھ درد سنا اور اپنے قلم کے ذریعے اسے دنیا تک پہنچایا۔ نکولس کرسٹوف اپنے کالم “دا سائیلنس دیٹ میٹس دی ریپ آف فلسطینئز’ میں لکھتے ہیں کہ اسرائیلی جیلوں میں اسرائیلی فوجیوں، آبادکاروں، تفتیش کاروں اور حتی کہ گارڈز نے فلسطینی مردوں، خواتین اور بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
اقوا متحدہ کے انسانی حقوق کونسل نے اپنی طویل رپورٹ میں اسے سسٹیمیٹک سیکچول وائیلنس قرار دیا ہے۔

امریکی صحافی نکولس کرسٹوف

نکولس کرسٹوف نے رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کے انٹریوز کے بعد لکھا کہ جنسی تشدد کے اس گھناونے عمل کے لیے اسرائیلی فوجیوں نے لوہے اور ربڑ کے ڈنڈے، گاجر اور حتی کے تربیت یافتہ کتے بھی استعمال کیے۔

نکولس کرسٹوف نے اپنی رپورٹ میں متعدد معتبر اداروں کی رپورٹس کا بھی حوالہ دیا ہے۔ ایک 42 سالہ فلسطینی خاتون نے جنیوا کی ایجنسی یورو-مڈیٹرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کو بتایا کہ جیل میں اسرائیلی فوجیوں نے ان کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتی کی اور ان کی تصاویر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں وہ تصاویر مجھے دکھائی گئیں اور مطالبہ کیا گیا کہ اگر اسرائیلی فوج کے لیے مخبری نہ کی تو یہ تصاویر نشر کی جائیں گی۔

سیو دی چلڈرن نامی ایک این جی او نے 12 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کا سروے کیا، جو کچھ وقت کے لیے اسرائیلی جیلوں میں رہے۔ آدھے سے زیادہ بچوں نے کہا کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں جنسی زیادتی کا شکار ہوئے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے 59 صحافیوں کا سروے کیا۔ 3 فیصد نے بتایا کہ ان کا اسرائیلی جیلوں میں ریپ ہوا جبکہ 29 فیصد نے دوسرے جنسی زیادتیوں کی نشاندہی کی۔

نکولس کرسٹوف لکھتے ہیں کہ تفتیش کے دوران جنسی زیادتی کے علاوہ ایسے بھی واقعات سامنے آئے جن میں قیدیوں کے جنسی اعضاء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یورو-مڈیٹرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے بھی لکھا کہ ڈاکٹروں سے معلوم ہوا کہ کچھ قیدیوں کے جنسی اعضاء کاٹے گئے تھے۔

ایک فلسطینی لڑکی، جو 23 سال کی عمر میں گرفتار ہوئی تھی، اس نے نکولس کرسٹوف کو بتایا کہ دن میں کئی مرتبہ میرے کپڑے اتارے جاتے، پھر مرد اور خواتین گارڈز میرا اسٹرف سرچ کرتے، میرے ہاتھ باندھتے اور مارتے تھے۔ انہوں نے کرسٹوف کو بتایا کہ مارنے کے دوران اسرائیلی گارڈز میرا سر ٹائلٹ میں ڈالتے تھے۔

غزہ کے اور صحافی نے نکولس کرسٹوف کو بتایا کہ قید کے دوران میرے ہاتھ باندھے گئے، میری آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور پھر ایک تربیت یافتہ کتے کو مجھ پر چھوڑا گیا اور اس نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

یہ وہ خوفناک حقائق اور منظم مظالم ہیں جس کے بارے میں عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ یہ صیہونیت اور مغربی درندگی کے وہ ثبوت ہیں، جو انسانیت کے خلاف ان گروہوں کے گھناؤنے جرائم کی طویل فہرست کا حصہ ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں