آسٹریلوی اداکارہ کیٹ بلاچیٹ نے کہا ہے کہ ہالی وڈ میں خواتین کے حقوق اور جنسی ہراسانی کے خلاف شروع ہونے والی “می ٹو” تحریک ‘بہت جلد ختم کر دی گئی’۔
کانز فلم فیسٹول میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ کئی معروف شخصیات نے محفوظ ماحول میں اپنے تجربات بیان کیے، لیکن عام خواتین کی آواز کو زیادہ دیر تک جگہ نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘بہت سے لوگ اپنے پلیٹ فارم کی وجہ سے نسبتاً محفوظ انداز میں بول سکتے ہیں، مگر جب عام خواتین کہتی ہیں ‘میرے ساتھ بھی ایسا ہوا’ تو پھر اس آواز کو کیوں دبا دیا جاتا ہے؟’
اداکارہ نے فلمی دنیا میں صنفی عدم مساوات پر بھی بات کی اور کہا کہ آج بھی فلم سیٹس پر مردوں کی تعداد خواتین سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ‘میں آج بھی فلم سیٹس پر روزانہ گنتی کرتی ہوں۔ وہاں تقریباً 10 خواتین اور 75 مرد ہوتے ہیں۔’
کیٹ بلانشیٹ نے کہا کہ یکساں ماحول میں کام کرنے سے تخلیقی عمل متاثر ہوتا ہے اور ایک ہی قسم کی گفتگو اور مزاح بار بار دہرایا جاتا ہے، جو وقت کے ساتھ بوریت پیدا کرتا ہے۔
2018 میں جب وہ کانز فلم فیسٹیول کی جیوری کی صدر تھیں تو انہوں نے 81 خواتین کے ساتھ ریڈ کارپٹ پر احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ یہ خواتین اُن تمام خواتین ہدایت کاروں کی نمائندگی کر رہی تھیں جن کی فلمیں کئی برسوں کے دوران کانز کے مقابلے میں شامل کی گئی تھیں، جبکہ مرد ہدایت کاروں کی تعداد اس کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔
دوسری جانب اداکارہ جولیان مورے نے بھی کانز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلم انڈسٹری میں خواتین کی نمائندگی میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔
انہوں نے ایک پرانے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب فلم کے سیٹ پر صرف وہ خود اور ایک اور خاتون موجود ہوتی تھیں، تاہم اب خواتین کی تعداد پہلے کے مقابلے میں بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔