بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے دفاع، توانائی اور شپنگ کے شعبوں میں کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ابو ظہبی اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ابو ظہبی میں نریندر مودی اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ملاقات کے دوران طے پانے والے معاہدوں میں دفاعی صنعتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، تربیت، مشترکہ مشقیں، بحری سلامتی، سائبر دفاع، محفوظ مواصلات اور معلومات کے تبادلے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں ایک مضبوط اسٹریٹجک معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی، جس کے تحت اماراتی سرکاری آئل کمپنی ‘ایڈنوک’ کو بھارت کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر میں 3 کروڑ بیرل خام تیل ذخیرہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اس معاہدے میں طویل مدتی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ امارات کی فجیرہ بندرگاہ میں مشترکہ خام تیل ذخیرہ کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لینا شامل ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب متحدہ عرب امارات نے ایران پر فجیرہ پر ڈرون اور میزائل حملوں کا الزام عائد کیا، جن میں ایک آئل ریفائنری کو آگ لگ گئی اور تین بھارتی کارکن زخمی ہوئے۔
نریندر مودی نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت دہرائی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں تقریباً 43 لاکھ بھارتی مقیم ہیں، جبکہ ایران جنگ کے دوران امارات کو بارہا راکٹ اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا ہے۔
شیخ محمد بن زاید نے کہا کہ ملاقات میں توانائی، ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے بھارت میں پانچ ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کرنے کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے معاشی تعلقات مزید مضبوط بنائے جا سکیں۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش کے باعث دنیا بھر کی طرح بھارت بھی شدید ایندھن بحران کا شکار ہے۔ حال ہی میں بھارت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین فیصد اضافہ کرنا پڑا، جبکہ اس کی تقریباً 90 فیصد تیل کی ضروریات درآمدات سے پوری ہوتی ہیں اور ان میں سے نصف آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہیں۔