بھارت میں بوئنگ 787 ڈریم لائنر حادثے کی تحقیقات جاری، بلیک باکس سے اہم سراغ ملنے کی امید
گزشتہ ہفتے احمد آباد سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد ہونے والے ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کے حادثے میں 270 افراد کی ہلاکت کے بعد،بھارتی تفتیش کاروں نے طیارے کے بلیک باکسز برآمد کر لیے ہیں اور ان کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ ان بلیک باکسز سے کاک پٹ کی گفتگو اور انجن و کنٹرول سیٹنگز سے متعلق ڈیٹا حاصل ہوگا، جس سے حادثے کی اصل وجہ کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔
لندن جانے والا یہ ایئر انڈیا کا طیارہ ایک میڈیکل کالج کے ہاسٹل پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار 241 افراد اور زمین پر موجود 29 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ صرف ایک مسافر زندہ بچ سکا۔ یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بھارت کے بدترین فضائی حادثات میں سے ایک ہے۔
بھارت کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کے ماہرین برطانیہ، امریکہ اور بوئنگ کے حکام کی مدد سے حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارےاے پی کے مطابق فلائٹ ڈیٹا اور کاک پٹ وائس ریکارڈرز (بلیک باکسز) کی بازیابی واقعات کی ترتیب کو جوڑنے کے لیے بہت اہم ہے۔ کاک پٹ وائس ریکارڈر پائلٹس کی گفتگو ہنگامی الارم اور حادثے سے پہلے کے کسی بھی ہنگامی سگنل کو ریکارڈ کرتا ہے۔
طیارے کا ڈیجیٹل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر انجن اور کنٹرول سیٹنگز سے متعلق معلومات محفوظ کرتا ہے۔ یہ دونوں آلات حادثے کے بعد بھی محفوظ رہنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ یہ ڈیٹا سب کچھ ظاہر کر دے گا، اور تکنیکی تفصیلات کو کاک پٹ وائس ریکارڈر سے تصدیق کیا جا سکے گا، جس سے تحقیقات کاروں کو ایئر ٹریفک کنٹرول اور پائلٹوں کے درمیان کسی بھی رابطے کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔
بھارتی حکومت نے حادثے کی وجوہات کا جائزہ لینے اور مستقبل میں طیاروں کی ہنگامی صورتحال کو روکنے اور سنبھالنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کے لیے ایک الگ اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ توقع ہے کہ یہ کمیٹی تین ماہ کے اندر اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی۔