تھائی لینڈ کی وزیراعظم عہدے سے معطل، متنازع آڈیو لیک پر تحقیقات جاری

تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیراعظم پیتونگتارن شنواترا کو متنازع آڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد عبوری طور پر عہدے سے معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے 7 کے مقابلے میں 2 ووٹوں سے فیصلہ دیتے ہوئے وزیراعظم کی برطرفی کے مقدمے پر غور کے لیے انہیں فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔

آئینی عدالت کی جانب سے یہ اقدام ایک آڈیو کلپ لیک ہونے کے بعد کیا گیا، جس میں پیتونگتارن کو سابق کمبوڈین رہنما ہن سن کو ’انکل‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جبکہ وہ تھائی فوجی کمانڈر پر تنقید بھی کر رہی تھیں۔ آڈیو کلپ نے ملک میں سیاسی ہلچل مچا دی، عوامی غصے اور وزیراعظم کی برطرفی کے لیے دائر پٹیشن کے بعد یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

معطلی کے باوجود پیتونگتارن کو کابینہ میں ثقافت کی وزیر کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن ان کی معطلی سے چند گھنٹے قبل جاری کیا گیا۔ عبوری طور پر ملک کی قیادت اب نائب وزیراعظم سنبھالیں گے۔ عدالت نے پیتونگتارن کو 15 دن میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم پیتونگتارن نے معذرت کرتے ہوئے وضاحت دی کہ ہن سن سے ان کی گفتگو کا مقصد سرحدی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ انہوں نے کہاکہ میری نیت سو فیصد ملک کے مفاد میں تھی۔ میں نے اپنی ذاتی فائدے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ صرف نقصان اور خونریزی سے بچنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازع کئی دہائیوں پر محیط ہے، تاہم حالیہ کشیدگی مئی کے اواخر میں ایک کمبوڈین فوجی کی ہلاکت کے بعد بڑھی ہے۔پیتونگتارن شنواترا تھائی لینڈ کی سب سے طاقتور سیاسی خاندان “شنواترا” سے تعلق رکھتی ہیں، جن کے دو سابق وزرائے اعظم ، تھاکسن شنواترا اور ینگ لک شنواترا ،بھی اپنی مدت پوری کیے بغیر معزول کیے جا چکے ہیں۔ اگر انہیں برطرف کیا گیا، تو وہ اس خاندان کی تیسری شخصیت ہوں گی جنہیں اقتدار سے ہٹایا جائے گا۔

پیتونگتارن، جو ملک کی سب سے کم عمر اور ینگ لک شنواترا کے بعد دوسری خاتون وزیراعظم ہیں، اس وقت کمزور معیشت اور عوامی حمایت میں کمی جیسے دباؤ کا شکار تھیں۔ حالیہ جائزے میں ان کی مقبولیت مارچ میں 30 فیصد سے گر کر صرف 9.2 فیصد رہ گئی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں