روسی حکام نے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ملک کے دو جنوبی مسلم اکثریتی خطوں، داغستان اور چیچنیا، میں مشہور میسجنگ ایپ ٹیلیگرام پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کے مطابق، عسکریت پسند عناصر اس پلیٹ فارم کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، جس کے باعث یہ اقدام ضروری سمجھا گیا۔
داغستان کے وزیر برائے ڈیجیٹل ترقی، یوری گامزاتوف نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "ٹیلیگرام اکثر دشمن عناصر کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ ماخچکالا ہوائی اڈے پر ہونے والے حالیہ فسادات اس کی ایک واضح مثال ہیں، جہاں یہ پلیٹ فارم اشتعال انگیزی کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔”
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ٹیلیگرام پر عائد کی جانے والی یہ پابندی محض علاقائی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کا فیصلہ وفاقی سطح پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال کو مستحکم رکھنا ہے۔
ماخچکالا ایئرپورٹ پر فسادات اور ٹیلیگرام کا کردار
گزشتہ برس اکتوبر 2023 میں داغستان کے دارالحکومت ماخچکالا میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جب سیکڑوں مظاہرین نے ایئرپورٹ پر دھاوا بول دیا اور وہاں اترنے والے مسافروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اگرچہ کسی بھی مسافر کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم اس واقعے کے بعد حکام نے متعدد افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔
حکام کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ٹیلیگرام پر یہ خبر گردش کرنے لگی کہ ایک مخصوص پرواز کے ذریعے اسرائیلی مسافر داغستان پہنچنے والے ہیں۔ اس خبر کے بعد مختلف چینلز پر یہود مخالف جذبات کو ہوا دی گئی، جس کے نتیجے میں پرتشدد ہجوم ایئرپورٹ پر جمع ہو گیا۔
ٹیلیگرام انتظامیہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ ایسے اشتعال انگیز چینلز کو بلاک کر دے گی، تاکہ نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ تاہم، روسی حکام نے اس واقعے کے تناظر میں ٹیلیگرام کو عسکریت پسندوں اور شرپسند عناصر کے لیے ایک خطرناک پلیٹ فارم قرار دیا اور اسے داغستان و چیچنیا میں مکمل طور پر بلاک کرنے کا فیصلہ کیا۔
سیکورٹی اقدامات اور مستقبل کے امکانات
روس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پہلے بھی پابندیاں لگتی رہی ہیں، مگر ٹیلیگرام پر عائد حالیہ قدغن خاص طور پر ان دو مسلم اکثریتی علاقوں میں لگائی گئی ہے جہاں حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔
یہ اقدام انٹیلی جنس اداروں کی ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ شدت پسند گروہ اپنے نظریات کے فروغ اور لوگوں کو اکسانے کے لیے ٹیلیگرام کا استعمال کر رہے ہیں۔ روسی حکومت کے اس فیصلے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی کڑی نگرانی رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکا جا سکے۔