تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر چینی کارکنوں پر ہونے والے دو حملوں کے بعد تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے یکم دسمبر کو ملک کے قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان کا ایک اہم اجلاس طلب کیا۔
صدر امام علی رحمان نے ان حملوں کی شدید مذمت کی جن میں مجموعی طور پر پانچ چینی شہری ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ صدر کے آفس کے مطابق، اجلاس میں تاجکستان اور افغانستان کے درمیان ملکی سرحد کی موجودہ صورتحال اور اس کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
حکام کی جانب سے جاری مختصر رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ دونوں واقعات میں پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
صدر امام علی رحمان نے افغان شہریوں کی غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اداروں کو ہدایت جاری کی کہ اس مسئلے کے حل اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے، ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں افغانستان سے تاجک سرحد پر چینی مزدوروں کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا حملہ ہے۔
اس سے قبل 26 نومبر کو افغانستان سے شروع کیے گئے ایک ڈرون حملے میں سونے کی کان کنی کمپنی کے تین چینی کارکن ہلاک ہوئے تھے۔ تاجک وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ حملہ فائر آرمز اور دستی بموں سے لیس ڈرون کے ذریعے کیا گیا اور وزارت نے دہشت گرد گروہوں کی ان سنگین کارروائیوں کی پرزور مذمت کی تھی