چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تائیوان کے معاملے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس مسئلے کو غلط انداز میں نمٹا گیا تو یہ دونوں ممالک کے درمیان تصادم اور انتہائی خطرناک صورتحال کا باعث بن سکتا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات جمعرات کو بیجنگ میں ہوئی، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا چین کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
عظیم عوامی ہال میں ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کو ایک پیچیدہ اور غیر یقینی دنیا میں مل کر کام کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔‘
صدر ٹرمپ نے بھی شی جن پنگ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما مسائل کے حل کے لیے براہِ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ انھوں نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیا۔
تاہم چینی صدر نے واضح کیا کہ تائیوان کا مسئلہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے سب سے حساس معاملہ ہے۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ اگر اس معاملے کو درست طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔
چین طویل عرصے سے امریکہ پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت محدود کرے۔
ملاقات میں تجارت، مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی، تاہم فوری طور پر کسی بڑے معاہدے یا پیش رفت کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
صدر ٹرمپ کے ساتھ کئی امریکی کاروباری شخصیات بھی چین پہنچی ہیں، جن میں این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ بھی شامل ہیں۔ امریکی کمپنیوں کی جانب سے چینی منڈی تک مزید رسائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شی جن پنگ اس ملاقات میں امریکی پابندیوں میں نرمی، نئی تجارتی محصولات سے گریز اور چینی کمپنیوں پر عائد بعض پابندیاں ختم کرنے جیسے مطالبات بھی سامنے رکھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ چاہتا ہے کہ چین اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جاری تنازع میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرے۔