ازبکستان نے اپنے پہلے خلا باز کو خلا میں بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ ازبک خلائی ادارے ’ازبیک کوسموس‘ کے نائب ڈائریکٹر مخیدین ابراہیموف کے مطابق ابتدائی خلائی مشن 10 سے 14 روز پر مشتمل ہوگا۔
بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے امریکہ، روس اور چین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ اور روس مشترکہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن استعمال کرتے ہیں جبکہ چین کا اپنا الگ خلائی اسٹیشن ہے۔ ان کے مطابق تینوں ممالک نے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
مخیدین ابراہیموف نے کہا کہ ازبک خلا باز خلا سے خالی ہاتھ واپس نہیں آئیں گے بلکہ کم از کم ایک سائنسی تجربے کے نتائج ساتھ لائیں گے۔
خلاباز بننے کے امیدواروں کے لیے عمر 27 سے 40 سال مقرر کی گئی ہے جبکہ قد 160 سے 190 سینٹی میٹر اور وزن 50 سے 95 کلوگرام ہونا ضروری ہے۔
امیدوار کے لیے یونیورسٹی ڈگری اور غیر ملکی زبانوں پر عبور بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ منتخب امیدوار کو کسی شراکت دار ملک میں خصوصی تربیت دی جائے گی۔
ازبک حکام کے مطابق پہلے مشن میں خلا میں چہل قدمی یا اسپیس واک شامل نہیں ہوگی کیونکہ ایسی سرگرمیاں عام طور پر چھ ماہ سے زائد طویل مشنز میں کی جاتی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ازبکستان نے اپنے پہلے 6 سائنسی سیٹلائٹ کے اجرا کا بھی اعلان کیا تھا۔