سوات خودکش حملہ: جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہو گئی

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی ہے، جن میں 7 پولیس اہلکار اور 10 عام شہری شامل ہیں۔

یہ حملہ اتوار کو کبل پولیس اسٹیشن کے قریب اس وقت ہوا، جب ملحقہ عوامی چوک میں بدامنی کے خلاف ‘امن’ احتجاج جاری تھا۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے پولیس اسٹیشن کے داخلی راستے پر اس وقت دھماکا کیا جب اہلکاروں نے اسے روک کر تلاشی لینے کی کوشش کی۔

سوات پولیس کے ترجمان ناصر اقبال کریمی کے مطابق حملے میں 18 پولیس اہلکار اور 9 شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق حملے کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کی گئی، جس میں ریسکیو 1122 کے 50 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ پر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور انہیں مختلف اسپتالوں منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حکام کے مطابق خودکش حملے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

سوات پولیس کے مطابق حملے میں شہید ہونے والے 2 پولیس اہلکاروں کانسٹیبل مکرم خان اور کانسٹیبل حسین خان کی نماز جنازہ پیر کو جاوید اقبال شہید پولیس لائنز میں ادا کی گئی۔ تقریب میں پولیس کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جبکہ پولیس دستے نے شہدا کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی پیر کو سوات پہنچے، جہاں انہوں نے شہدا کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور زخمیوں کی عیادت کی۔ انہوں نے سیدو شریف کے شیخ زاید النہیان اسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں مالاکنڈ ڈویژن اور سوات کی مجموعی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت امن کی بحالی کے لیے پرعزم ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اہلکار مسلسل دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق جولائی میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے علاوہ صوبے میں سکیورٹی اہلکاروں کی اموات جون میں 12 سے بڑھ کر جولائی میں 38 ہوگئیں، جبکہ دہشت گردوں کی ہلاکتیں 37 سے بڑھ کر 108 رہیں۔

پیر کے روز سوات میں وکلا نے خودکش حملے کے خلاف مکمل ہڑتال کی، جبکہ عدالتوں میں کارروائی معطل رہی۔ کبل تحصیل میں تاجروں نے بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی۔

سوات قومی جرگہ، تاجروں، وکلا اور نوجوان نمائندوں نے 7 اگست کو مینگورہ کے نشاط چوک میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ منتظمین کے مطابق مظاہرے کا مقصد دہشت گردی کے متاثرین سے اظہار یکجہتی اور علاقے میں مستقل امن کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں