سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ، پولیس کی تحویل میں میڈیا کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا ملزم کا اعترافی بیان قانونا ناقابل قبول ہے، اور اس بنیاد پر ایک کم سن بچے کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کو بری کر دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری طور پر جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ، جب تک کسی ملزم کا اعترافی بیان کسی مجسٹریٹ کے روبرو اور قانونی تقاضوں کے مطابق ریکارڈ نہ کیا جائے، اسے عدالت میں قابلِ قبول شہادت کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں پولیس کے اس عمل پر نکتہ چینی کی کہ، انہوں نے ایک صحافی کو ریمانڈ کے دوران ملزم کا انٹرویو کرنے کی اجازت دی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ،یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ،ایک رپورٹر کو زیرِ حراست ملزم تک رسائی دی جائے، اس کا بیان ریکارڈ کیا جائے اور اسے میڈیا پر نشر کر دیا جائے۔
فیصلے میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ، زیرِ حراست ملزمان کے انٹرویوز میڈیا پر نشر کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں، بلکہ یہ چلن عام ہو چکا ہے، جو نہ صرف ملزم، بلکہ متاثرین کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق، ایسے ہائی پروفائل کیسز میں میڈیا ٹرائل معاشرے میں غلط تاثر پھیلاتا ہے اور انصاف کے تقاضوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
عدالت نے میڈیا کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ، میڈیا ایک بیانیہ تشکیل دینے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، جو چاہے درست ہو یا غلط، لیکن اس کا اثر ملزمان اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں پر گہرا اور بعض اوقات ناقابل تلافی ہوتا ہے۔
تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا کہ، ٹی وی پر نشر کیا گیا ملزم کا بیان عدالت میں ناقابل قبول تھا کیونکہ وہ نہ کسی مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا اور نہ ہی اس کے پیچھے قانونی جواز تھا۔ عدالت نے اسے محض پولیس یا میڈیا کی کارکردگی دکھانے کی کوشش قرار دیا جو کہ، کسی صورت میں عوامی مفاد میں نہیں آتا۔
فیصلے میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ، اس کی کاپی سیکرٹری وزارت داخلہ، سیکرٹری اطلاعات و نشریات، چیئرمین پیمرا اور تمام صوبائی چیف سیکرٹریز کو بھیجی جائے، تاکہ اس کی روشنی میں فوجداری مقدمات کے فریقین کے حقوق اور تفتیش کے شفاف عمل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ، اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی، اور سندھ ہائی کورٹ نے واقعاتی شواہد اور ٹی وی انٹرویو میں دیے گئے اعترافی بیان کی بنیاد پر اس سزا کی توثیق کی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے ان بنیادوں کو ناقابل قبول قرار دے کر ملزم کو بری کر دیا۔