ایسے سمارٹ کانٹیکٹ لینسز جو آنکھوں کو کمپیوٹر میں تبدیل کر دیں

بارسلونا میں منعقدہ موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران ایک انقلابی ایجاد سامنے آئی ہے جو انسانی آنکھوں کو محض دیکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک اسمارٹ کمپیوٹر میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنی XPANCEO نے ایسے جدید اسمارٹ لینسز متعارف کرائے ہیں جو آنکھوں کی صحت کی نگرانی اور مختلف طبی مسائل کی تشخیص میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان لینسز کو بائیو سنسنگ اور انٹرا اوکولر پریشر (Intraocular Pressure – IOP) سنسرز سے لیس کیا گیا ہے، جو نہ صرف بینائی کو محفوظ رکھیں گے بلکہ کئی بیماریوں کی قبل از وقت تشخیص میں بھی مدد دیں گے۔
یہ لینسز تین مختلف پروٹوٹائپ کی صورت میں تیار کیے گئے ہیں، جن کا بنیادی مقصد آنکھوں کو ایک فعال اسمارٹ ڈیوائس میں تبدیل کرنا ہے۔ پہلا لینس ایک منفرد وائرلیس چارجنگ سسٹم سے لیس ہے، جو چارجنگ کے دوران بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ صارف کو لینس اتارنے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک کانٹیکٹ لینس کیس اسے خودکار طریقے سے چارج کردے گا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اسمارٹ لینس بینائی پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں کرے گا۔ دوسرا لینس انسانی آنسوؤں کے ذریعے جسمانی صحت کی نگرانی کرے گا۔ اس میں موجود نانو پارٹیکلز بلڈ شوگر، وٹامنز اور ہارمونز کی سطح کو مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے ذیابیطس سمیت دیگر امراض کی فوری شناخت ممکن ہوسکے گی۔ تیسرا لینس آئی او پی سنسر پر مشتمل ہے، جو آنکھ کے اندرونی دباؤ کو مانیٹر کرے گا۔ یہ ٹیکنالوجی موتیے جیسے پیچیدہ مرض کی جلد تشخیص میں مدد فراہم کرے گی، تاکہ بروقت علاج کیا جا سکے۔
کمپنی نے ایک خصوصی اے آئی اسمارٹ فون ایپ بھی متعارف کرائی ہے، جو ان لینسز سے جڑ کر آنکھوں کی صحت سے متعلق تفصیلی ڈیٹا فراہم کرے گی۔ اس سے صارفین موتیے اور دیگر امراض کی ممکنہ نشاندہی خود ہی کر سکیں گے۔ یہ اسمارٹ لینسز بلاشبہ طبی دنیا میں ایک غیر معمولی پیش رفت کی علامت ہیں، جو مستقبل میں انسانی آنکھوں کو ایک جدید ڈیجیٹل آلہ بنانے کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ XPANCEO کی اس تحقیق سے نہ صرف بینائی کو محفوظ بنایا جا سکے گا بلکہ ڈیجیٹل میڈیکل مانیٹرنگ کا ایک نیا باب بھی کھلے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں