ایک مشہور کہاوت ہے کہ ” تھوڑے وچ چوکھا وڑ جانا ” یعنی بعض شخص اپنی چالبازیوں ، چلاکیوں ، اور خوشامدیوں کی بدولت معاشرہ میں اہم رتبہ و مقام حاصل کرلیتے ہیں جس کے وہ اہل نہیں ہوتے۔ ایسے خود پسند منافق لوگ اپنی گھٹیا سوچ کی بدولت صرف اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہیں ۔ انھیں کسی بھی دوسرے کی تکلیف و پریشانی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ آپ کا بھی واسطہ یقینا اپنی زندگی میں ایسے لوگوں سے ضرور پڑا ہوگا ۔ یہ لوگ آپ کے قرب و جوار میں کسی بھی جگہ اور کسی بھی روپ میں ہو سکتے ہیں ۔ ایسے لوگ حقیقت میں، تو جب انھیں آپکی ضرورت ہوگی، تو وہ آپ کو یہ شو کروائیں گے کہ ان سے زیادہ مخلص اور ہمدرد آپکا کوئی نہیں ۔ لیکن جیسے ہی وہ آپ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور آپ کے رازوں سے واقف ہو جاتے ہیں تو وہ آپ کو اس طرح پیچھے پھینک دیں گے ۔ جیسے کہ کوئی دہی میں سے بال نکالتا ہے ۔ یہ منافق آپ کی سوچ سے بھی زیادہ چالاک ہوتے ہیں ۔
مُنافقت کا معنی ہے اپنے قول او ردعمل سے وہ کچھ ظاہر کرنا جو دِل میں موجود عقائد و عزائم کے خِلاف ہو اور اِسلام میں منافقت کا مفہوم ، دِل میں کفر ، شرک اور گناہوں کا اقرار اور عمل کے وجود کے ساتھ ، اپنے آپ کو قولی اور عملی طور پر اِیمان والا، اللہ کی توحید کو ماننے والا، اور گناہوں سے دُور رہنے و الا ظاہر کرنا۔
اللہ تعالیٰ نے جہنم کا سب سے نچلا درجہ، منافقین ، یعنی ، منافقت کرنے والوں کا ٹھکانہ مقرر فرما رکھا ہے ۔انکا ٹھکانہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہو گا۔
خواہ یہ مُنافق، نفاق اکبر (بڑی مُنافقت) پر عمل کرنے والے ہوں، یا نفاق اصغر (چھوٹی مُنافقت) پر، اعتقادی نفاق والے ہوں یا عملی مُنافقت والے ، سب کا ٹھکانہ وہی ہے۔
آپ کے اردگرد اکثر ایسے بھی لوگ موجود ہوں گے جن کے ساتھ آپ جتنے بھی مخلص ہوں لیکن انکی نظر میں آپ کی حیثیت صفر ہوگی ۔ چاہے آپ نے ان کے لیےجتنی بھی قربانی کیوں نہ دی ہو لیکن وہ آپکی ہر قسم کی قربانیوں کو اپنے پاؤں تلے روند دیں گے ۔ لیکن یہ بات اظہر من الشمس ھے کے عروج کے بعد زوال بھی آتا ھے ۔ آپ جیسا کسی کے ساتھ سلوک کریں گے ویسا ہی عنقریب آپ کو بھگتنا پڑے گا ۔ کیونکہ تکبر و غرور آپکو آپکی اصل جگہ پر لے ھی آئےگا ۔ یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ جنکی محنت اور کوششوں سے آپ کو کامیابی و عروج ملتا ہے وہی آپکو آپکی اصلیت پر دوبارہ پہنچا سکتے ہیں ۔ اگر یقین نہیں تو آزما کر دیکھ لیں ۔ کیونکہ اللہ کی رسی دراز زرور ہے ۔ لیکن جب وہ کھینچتا ہے تو دن میں تارے نظر آجاتے ہیں ۔ آپ جن لوگوں کو اپنی محنت سے آسمان کی بلندیوں پر پہنچاتے ہیں وہی لوگ اپنی منزل حاصل کرنے کے بعد آپ کی تمام کاوشوں کو فراموش کر دیتے ہیں شاید وہ یہ بھول جاتےہیں عروج کے بعد زوال بھی ہوتا ہے ۔ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ۔
ووٹر کی عزت و توقیر میں کمی جتنی گزشتہ چند سالوں میں ہوئی اتنی پہلے کبھی نہ تھی ۔آخر اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ کیا آپ کے ووٹ سے کامیابی حاصل کرنے والے لوگوں \ جماعت کو بعد میں آپ کی کوئی ضرورت نہیں رہتی ؟ کیا یہ جیتنے والے اپنے ارد گرد چند مخصوص لوگوں کا ایک گروپ جمع کر لیتے ہیں اور چند خوشامدی و چاپلوسی کے حاملین بھی اس گروپ کی زبردستی زینت بن جاتے ہیں ؟ یعنی یہ بھی ان کم ظرف مطلبی لوگوں کا حصہ ہوتے ہیں۔