پاکستان کے براڈ پیک پہاڑ پر برفانی تودے کی زد میں آنے والے 10 کوہ پیماؤں میں سے 6 لاپتہ ارکان کی تلاش ہفتے کو دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائی میں فوجی ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔
ایک روز قبل اب تک ملنے والی چار لاشوں میں سے تین کو نکال لیا گیا تھا۔ ایسوی ایٹڈپریس کے مطابق مقامی پولیس افسر طاہر خان نے بتایا کہ عمانی کوہ پیما ناتھیرا احمد کی میت اسلام آباد منتقل کی جا رہی ہے، جبکہ امریکی کوہ پیما میلوری گیس اور نیپالی کوہ پیما بہادر گرونگ کی لاشیں سکردو کے ایک ہسپتال میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیدیں کم ہونے کے باوجود تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے نائب صدر قرار حیدری کے مطابق جمعرات کو کوہ پیمائی کے دوران براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد ٹیم کا بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے ٹیم کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، جبکہ تجربہ کار پاکستانی کوہ پیما اور فوجی ہیلی کاپٹر تلاش اور امدادی کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔
الپائن کلب کے مطابق اس وفد میں پانچ نیپالی، جبکہ عمان، امریکا، پاکستان اور چین سے ایک ایک کوہ پیما شامل تھا۔ اس مہم کی قیادت معروف کوہ پیما نرمل پرجا کر رہے تھے، جو نیپال میں پیدا ہوئے اور برطانوی فوج کے سابق اہلکار ہیں۔ وہ نمس دائی کے نام سے بھی مشہور ہیں۔
نرمل پرجا نے 2019 میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں 189 دن میں سر کی تھیں۔ ان کی یہ کامیابی نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم ’14 پیکس: نتھنگ از امپاسبل‘ میں دکھائی گئی تھی۔ ان کا ریکارڈ 2023 میں توڑ دیا گیا تھا۔
پاکستان میں قائم سیاحتی کمپنی موونگ ماؤنٹینز نے گزشتہ ماہ کے آخر میں بتایا تھا کہ کوہ پیمائی ٹیم اسکلے نامی قصبے کی طرف روانہ ہو رہی ہے اور اس نے وفد کے محفوظ سفر کی خواہش ظاہر کی تھی۔
یہ میلوری گیس کی پاکستان میں 8 ہزار میٹر بلند چوٹی سر کرنے کی پہلی کوشش تھی۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کے لیے یہ ممکنہ طور پر آخری ایسی مہم تھی۔ وہ کمپنی کے گائیڈ، جغرافیہ دان اور بلند پہاڑی علاقوں کے فوٹوگرافر بھی ہیں اور دنیا کی کئی بڑی چوٹیوں کو سر کر چکے ہیں۔