بونیر کے بعد خیبر پختونخوا کا ضلع صوابی کلاؤڈ برسٹ کی لپیٹ میں آگیا، ریسکیو آپریشن جاری

خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کا گاؤں دالوڑی شدید بارشوں کے بعد آنے والے کلاؤڈ برسٹ کی لپیٹ میں آگیا۔ تیز رفتار سیلابی ریلے نے کئی گھروں کو بہا دیا جبکہ 15 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے اور متعدد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان کے مطابق پانی کے دباؤ اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کئی گاڑیاں بھی پانی میں بہہ گئی ہیں اور مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ہری پور اور مردان سے بھی امدادی ٹیمیں طلب کر لی گئی ہیں تاکہ متاثرہ گاؤں میں بروقت کارروائیاں ممکن ہو سکیں۔

دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں اب تک 3 سو سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 156 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 159 مکانات کو نقصان پہنچا جن میں 97 جزوی طور پر اور 62 مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔ سب سے زیادہ تباہی ضلع بونیر میں دیکھی گئی جہاں 209 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ سوات، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام بھی متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کا فوری فوکس ریسکیو آپریشن پر ہے اور کئی راستے کھول دیے گئے ہیں تاہم کچھ مقامات اب بھی بند ہیں۔ ان کے مطابق ایوی ایشن کی مدد بھی لی جا رہی ہے تاکہ دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں لیکن گھروں اور مالی نقصانات کا مکمل معاوضہ دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ نقصان کی سو فیصد تلافی کی جا سکے، تاہم وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کے تعاون کو بھی خوش آئند قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے فون کرکے خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور صوبائی حکومت اس عزم پر قائم ہے کہ متاثرہ افراد کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں