بھارت کے جنوبی جزیرے ‘گریٹ نکوبار’ کو چین کے مقابل ایک اہم تزویراتی مقام قرار دیا جا تا ہے، تاہم اب اس جزیرے پر اربوں ڈالر مالیت کے ایک بڑے ترقیاتی منصوبے نے شدید تنازع کو جنم دیا ہے۔ بھارتی حکومت اس جزیرے کو ایک اہم معاشی اور دفاعی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے بندرگاہ، شہری و فوجی ہوائی اڈہ، بجلی گھر، سیاحتی سہولیات اور ساڑھے 3 لاکھ افراد پر مشتمل نئی بستی قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
گریٹ نکوبار جزیرہ بھارت کے مرکزی علاقے سے تقریباً 1600 کلومیٹر دور واقع ہے اور اس کی جغرافیائی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ یہ آبنائے ملاکا کے قریب واقع ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مقام سے بحری سرگرمیوں کی نگرانی ممکن ہے، جس سے بھارت کو سمندری معاملات پر نظر رکھنے میں اہم برتری حاصل ہو سکتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف جزیرے کی معاشی ترقی بلکہ قومی سلامتی اور خطے میں بھارت کی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ حالیہ مہینوں میں حکومت نے اس منصوبے کو زیادہ تر دفاعی اور تزویراتی اہمیت کے تناظر میں پیش کرنا شروع کیا ہے۔
دوسری جانب ماحولیاتی ماہرین، انسانی حقوق کے کارکنان اور مقامی آبادی اس منصوبے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ منصوبے کے تحت تقریباً 9 لاکھ 64 ہزار درخت کاٹے جائیں گے جبکہ جزیرے کے قدرتی ماحول اور نایاب حیاتیاتی تنوع کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ناقدین کے مطابق منصوبے کے باعث مقامی قبائلی برادریوں، خصوصاً شومپن اور نکوباری باشندوں کی روایتی زمینیں اور طرزِ زندگی خطرے میں پڑ جائیں گے۔
قبائلی حقوق کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ منصوبہ مقامی قبائل کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ تعمیرات کا ایک بڑا حصہ قبائلی محفوظ علاقوں پر مشتمل زمین پر کیا جائے گا، جس سے مقامی آبادی متاثر ہوگی۔
بھارتی پارلیمان میں بھی اس منصوبے پر بحث جاری ہے۔ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے اسے ملک کے قدرتی وسائل اور قبائلی ورثے کے خلاف ایک بڑا جرم قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ترقی کے نام پر ماحولیات اور مقامی آبادی کے حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گریٹ نکوبار کی جغرافیائی حیثیت بھارت کے لیے اہم تزویراتی فوائد رکھتی ہے، تاہم اس منصوبے کے معاشی، ماحولیاتی اور سماجی اثرات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق جزیرے کی ترقی بھارت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ ناقدین کا اصرار ہے کہ اس کی قیمت مقامی ماحول اور قبائلی ثقافت کی تباہی کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔