سعودی عرب کی شمولیت کے بعد امریکا- ایران تنازع نئے مرحلے میں داخل، سفارتی کوششیں پھر تعطل کا شکار

امریکہ اور ایران کے درمیان وقفے وقفے سے جاری لڑائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سعودی عرب نے ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں کھل کر حصہ لیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بڑھتی ہوئی بداعتمادی کے باعث ایک بار پھر ناکام ہو گئی ہیں۔

کئی روز کی نسبتاً خاموشی کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں میں امریکہ اور ایران دونوں نے فوجی حملے کیے، جس سے مکمل جنگ کی واپسی اور تنازع کے مزید ممالک تک پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اتحادی حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی درخواست کر رہا ہے۔ تاہم ایران کے نائب وزیر خارجہ نے منگل کو کہا کہ تہران نے گزشتہ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے کے دوران سفارتی عمل دوبارہ شروع کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔

اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایران کے خلاف دوبارہ دھمکی آمیز بیان دیا، تاہم انہوں نے مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے ہی معافی مانگ چکا ہے لیکن اسے کچھ سبق سکھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب امریکہ کی باری ہے اور ایران کو بہت سخت نشانہ بنایا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کے بیان کے چند گھنٹے بعد امریکی فوج نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر ایرانی حملوں کی کوشش کے جواب میں طاقتور کارروائی کی ہے۔ امریکی فوج نے فوری طور پر حملوں کے اہداف کی تفصیل جاری نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ گزشتہ کئی ماہ سے جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے معاہدہ قریب ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ۔ امریکہ میں یہ جنگ بہت سے لوگوں میں غیر مقبول ہے اور نومبر کے اہم وسط مدتی انتخابات سے چند ماہ قبل اس نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔

اے پی کے مطابق نئی لڑائی میں مزید امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ امریکہ اپنے فوجی اڈوں اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ضروری فضائی دفاعی نظام کے ذخائر تیزی سے استعمال کر رہا ہے۔

دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ اس نے اردن میں موفق السلطی ایئربیس پر بیلسٹک میزائل داغے، جو خطے میں امریکہ کا ایک اہم فوجی مرکز ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ان میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ اسی دوران سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے زیر استعمال متعدد لاجسٹک اور اسلحہ مراکز کو نشانہ بنایا۔ امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے پہلی بار مشترکہ حملوں کا عوامی اعلان سعودی عرب پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد کیا گیا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے عراقی مسلح گروہوں کے خلاف امریکی کارروائیوں میں شامل ہو کر ایران کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنی تیل کی صنعت اور دیگر اہم تنصیبات پر ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے حملے برداشت نہیں کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں