پاکستان ریڈ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے دوسرے ٹیسٹ کے لیے قومی ٹیم کی پلیئنگ الیون میں تبدیلیوں کا اشارہ دیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں پاکستانی بیٹنگ نے مایوس کیا، خصوصاً دوسری اننگز میں بیٹنگ لائن ایک مرتبہ پھر دباؤ برداشت کرنے میں ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پہلی اننگز میں برتری حاصل کرنی چاہیے تھی۔ امام الحق اچھی بیٹنگ کر رہے تھے، تاہم تھوڑا مزید صبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے تو قومی ٹیم حریف پر برتری حاصل کر سکتی تھی۔
سرفراز احمد نے تیسرے روز ویسٹ انڈیز کی آٹھویں وکٹ کی شراکت کو بھی میچ کا اہم موڑ قرار دیا۔ ان کے مطابق میزبان ٹیم کے آخری نمبروں کے بلے بازوں کو 61 رنز کی شراکت قائم کرنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے تھا، خصوصاً ایسی پچ پر جہاں فاسٹ بولرز کو مدد حاصل ہو رہی تھی۔
قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ ٹیم انتظامیہ نے پچ کو درست انداز میں سمجھا تھا اور اسی وجہ سے پاکستان پانچ بولرز کے ساتھ میدان میں اترا۔ تاہم بولنگ یونٹ اہم موقع پر ویسٹ انڈیز کی شراکت توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ کی پلیئنگ الیون کا فیصلہ پچ اور کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بعض کھلاڑیوں کو مزید مواقع دیے جائیں گے، تاہم ضرورت پڑنے پر ٹیم میں تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔
سرفراز احمد نے امید ظاہر کی کہ قومی ٹیم پہلے میچ کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے دوسرے ٹیسٹ میں مضبوط واپسی کرے گی اور دو میچوں کی سیریز برابر کرنے کی کوشش کرے گی۔
واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے کر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔
میزبان ٹیم نے پاکستان کو کامیابی کے لیے 211 رنز کا ہدف دیا تھا، لیکن قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن دوسری اننگز میں صرف 120 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
اس شکست کے بعد پاکستان کے لیے سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ قومی ٹیم کو سیریز برابر کرنے کے لیے بیٹنگ کے ساتھ ساتھ اہم مواقع پر بولنگ اور فیلڈنگ میں بھی بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔