ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے برصغیر میں جنم لینے والا کھیل ‘شطرنج’ شاہراہِ ریشم کے ذریعے وسطی ایشیا پہنچا اور پھر پوری دنیا میں پھیل گیا۔ آج یہی قدیم سفر ایک نئی شکل میں دوبارہ دہرایا جا رہا ہے، جہاں شطرنج بھارت اور ازبکستان کے درمیان تعلقات کو ایک نئے انداز میں جوڑ رہا ہے۔
دی ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ برسوں میں گکیش دوماراجو اور نودیر بیک عبد الستاروف کے درمیان بین الاقوامی مقابلے اس رجحان کی واضح مثال ہیں۔ یہ مقابلے محض کھیل تک محدود نہیں بلکہ ایشیا کے عالمی شطرنج میں ابھرتے ہوئے کردار اور تاریخی روابط کی بحالی کی عکاسی کرتے ہیں۔
شطرنج کی ابتدا چھٹی صدی میں بھارت میں ‘چتورنگ’ کے نام سے ہوئی، جو قدیم افواج کے چار حصوں پر مبنی حکمتِ عملی کا کھیل تھا۔ بعد ازاں یہ کھیل فارس اور وسطی ایشیا کے راستے "شطرنج” کی شکل اختیار کرتا ہوا جدید دور کے عالمی کھیل میں تبدیل ہو گیا۔
ازبکستان نے حالیہ برسوں میں شطرنج کے فروغ کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کیے ہیں، جن میں اسکولوں میں اس کھیل کو متعارف کرانا اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت شامل ہے۔ اس کا نتیجہ 2022 میں اس وقت سامنے آیا جب ازبکستان نے عالمی شطرنج اولمپیاڈ میں سونے کا تمغہ جیت کر دنیا کو حیران کر دیا۔
دوسری جانب بھارت میں بھی شطرنج کو غیر معمولی فروغ ملا ہے، جس میں وشواناتھن آنند کا کردار اہم رہا ہے۔ ان کی کامیابیوں نے نئی نسل کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں کئی نوجوان عالمی معیار کے کھلاڑی سامنے آئے ہیں۔
بھارت اور ازبکستان کے درمیان شطرنج کی بڑھتی ہوئی مسابقت دراصل دونوں ممالک کے وسیع تر تعلقات کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تعلیم، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے، جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارم بھی باہمی روابط کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، جہاں اقتصادی اور سفارتی تعاون اہم ہے، وہیں ثقافتی روابط بھی تعلقات کو گہرا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ شطرنج اس سلسلے میں ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، جس کے ذریعے مشترکہ مقابلے، تربیتی پروگرام اور نوجوانوں کے تبادلے دونوں خطوں کو مزید قریب لا سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مستقبل میں عالمی شطرنج مقابلوں میں بھی یہ تعلق مزید نمایاں ہو سکتا ہے، جہاں جاووخیر سنداروف اور گکیش دوماراجو کے درمیان عالمی چیمپئن شپ کا مقابلہ متوقع ہے۔ اسی طرح خواتین کے عالمی مقابلوں میں بھی بھارت کی نمائندگی نمایاں ہو سکتی ہے۔
یوں شطرنج کے 64 خانوں پر ہونے والے یہ مقابلے صرف کھیل نہیں بلکہ ایک مشترکہ تاریخی ورثے اور بڑھتے ہوئے علاقائی تعلقات کی عکاسی بھی کرتے ہیں، جو خاموشی سے بھارت اور وسطی ایشیا کو دوبارہ قریب لا رہے ہیں۔