دنیا بھر میں طب کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں تیزی آ رہی ہے اور روبوٹک سرجری بھی تیزی سے مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق روبوٹک سرجری نہ صرف پیچیدہ آپریشنز کو زیادہ مؤثر بناتی ہے بلکہ اس سے مریضوں کی صحتیابی کا عمل بھی نسبتاً تیز ہو جاتا ہے۔
روبوٹک سرجری ایک جدید طبی طریقہ کار ہے جس میں ڈاکٹر خصوصی روبوٹک مشینوں کی مدد سے آپریشن انجام دیتے ہیں۔ اس نظام میں سرجن کمپیوٹرائزڈ کنٹرول کے ذریعے انتہائی باریک اور حساس جراحی مراحل مکمل کرتا ہے، جس سے غلطی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دل، گردے، دماغ، کینسر اور ہڈیوں سمیت کئی پیچیدہ بیماریوں کے آپریشن زیادہ احتیاط اور درستگی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے آپریشنز جن میں انسانی ہاتھ کی معمولی لغزش بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، وہاں روبوٹک سرجری اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق روبوٹک سرجری کے دوران جسم پر کم کٹ لگائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے خون کا ضیاع کم ہوتا ہے اور مریض جلد صحت یاب ہو کر معمولاتِ زندگی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکا، یورپ، چین اور مشرقِ وسطیٰ سمیت کئی ممالک میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ روبوٹک سرجری جدید طبی سہولتوں میں ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کے اخراجات عام سرجری کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں مہنگی مشینری، تربیت یافتہ عملے اور محدود طبی سہولتوں کے باعث اس ٹیکنالوجی تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج سمجھی جاتی ہے۔
طبی شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹک ٹیکنالوجی کے امتزاج سے سرجری کے طریقہ کار میں مزید انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں، جو مستقبل میں علاج کے نظام کو مکمل طور پر بدل سکتی ہیں۔