چین کے صدر شی جن پنگ نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہا ہے کہ چین اور روس کو عالمی نظام کو “زیادہ منصفانہ اور متوازن” بنانے کے لیے طویل المدتی اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال غیر یقینی اور ہنگامہ خیز ہے جبکہ یکطرفہ پالیسیوں اور طاقت کے زور پر فیصلوں کا رجحان دوبارہ بڑھ رہا ہے۔ تاہم اُن کے بقول امن، ترقی اور تعاون اب بھی دنیا کے عوام کی بنیادی خواہش ہیں۔
صدر شی نے کہا کہ چین اور روس کے درمیان سیاسی اعتماد، تزویراتی تعاون اور مختلف شعبوں میں روابط مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ اُن کے مطابق دونوں ممالک عالمی انصاف اور بین الاقوامی توازن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے چینی صدر نے فوری جنگ بندی پر زور دیا اور کہا کہ خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنا ناقابلِ قبول ہو گا۔ اُن کے مطابق مذاکرات ہی مسئلے کا واحد حل ہیں اور تنازع کے خاتمے سے توانائی کی فراہمی اور عالمی رسد کے نظام کو بھی استحکام ملے گا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن دو روزہ دورے پر منگل کو چین پہنچے تھے۔ یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے چند روز بعد ہو رہا ہے۔
یہ ملاقات چین اور روس کے درمیان 2001 میں ہونے والے دوستی اور تعاون کے معاہدے کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر بھی ہوئی۔ اس معاہدے پر اُس وقت کے چینی صدر جیانگ زیمن اور ولادیمیر پیوٹن نے دستخط کیے تھے۔ دونوں ممالک نے بدھ کے روز اس معاہدے میں توسیع پر بھی اتفاق کیا۔
صدر پیوٹن نے ملاقات کے دوران کہا کہ روس اور چین کے تعلقات “غیر معمولی حد تک مضبوط” ہو چکے ہیں اور گزشتہ پچیس برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں تیس گنا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے صدر شی جن پنگ کو “قریبی دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کی شراکت داری دنیا کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔
صدر پیوٹن نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ آئندہ برس چین کے شہر شین ژین میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور انہوں نے صدر شی کو روس کے دورے کی دعوت بھی دی۔