وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ نجی دورۂ لندن کے دوران پنجاب حکومت کا سرکاری طیارہ استعمال کیے جانے پر سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے خاندانی تقریب کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ پنجاب حکومت نے تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔
مریم نواز گزشتہ ہفتے اپنی بیٹی ماہ نور کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئی تھیں اور بدھ کو لاہور واپس پہنچیں۔ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ نے اس سفر کے تمام اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کے سرکاری خرچ پر لندن جانے کا الزام درست نہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے لندن کے سفر کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔
دوسری جانب اپوزیشن نے سرکاری طیارے کے استعمال پر اعتراض جاری رکھا ہے۔ سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما مونس الٰہی نے بھی اس معاملے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ملک میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے جوڑا۔
رپورٹ کے مطابق زیر بحث سرکاری طیارہ 2019 ماڈل گلف اسٹریم G500 ہے، جس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ سے 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے۔ پاکستانی کرنسی میں اس کی قیمت 10 ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ یہ طیارہ اپنی خریداری سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے بعد بھی سیاسی بحث کا موضوع رہا ہے۔
لندن میں قیام کے دوران مریم نواز سے پنجاب میں نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق جاری بحث پر بھی سوال کیا گیا۔ انہوں نے تفصیلی جواب دینے کے بجائے کہا کہ وطن واپسی اور مشاورت کے بعد اس معاملے پر بات کریں گی۔