مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان اور چین کو مل کر بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف

بیجنگ میں چین کے وزیرِ اعظم لی چیانگ کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان اور چین کو مل کر بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف چار روزہ سرکاری دورے پر چین میں موجود ہیں اور بیجنگ پہنچنے سے قبل وہ ہانگژو میں بھی قیام کر چکے ہیں۔ مذاکرات کے دوران وزیرِ اعظم نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کو ایک ساتھ کھڑا ہونا ہوگا تاکہ دنیا میں دوبارہ امن قائم ہو اور معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکیں، کیونکہ اس بحران نے نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔

اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، جو ہفتے کے روز ایران کا دورہ مکمل کرکے واپس آئے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے انتہائی مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران سے واپس آئے اور پوری رات سفر کے باوجود اس اہم ملاقات میں شریک ہوئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ آرمی چیف نے ایرانی اور امریکی قیادت کے ساتھ رابطوں میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی خطے کے رہنماؤں سے مسلسل رابطے رکھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امن کی بحالی کی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں اور کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امن کے فروغ اور جنگ بندی کی کوششوں میں چین نے بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شی جن پنگ کے چار نکاتی امن منصوبے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

اپنے خطاب کے آغاز میں شہباز شریف نے چین کے دورے کی دعوت اور پرتپاک استقبال پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کا ہر دورہ خوشی کا باعث بنتا ہے اور ہر مرتبہ یہاں نئی ترقی اور تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

وزیرِ اعظم نے صوبہ شانشی میں کوئلے کی کان میں ہونے والے گیس دھماکے پر افسوس کا اظہار بھی کیا، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اپنی سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور دونوں ممالک کے بانی رہنماؤں نے دوستی کی ایک مضبوط بنیاد رکھی تھی، جسے اب مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

قبل ازیں بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپل پہنچنے پر وزیرِ اعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور اپنے وفود کا تعارف کرایا، جبکہ اس موقع پر پاکستان اور چین کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔

وزیرِ اعظم اپنے دورۂ چین کے دوران صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ سمیت چینی قیادت سے مزید ملاقاتیں کریں گے۔ وہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 ویں سال کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس دورے میں وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں۔

دورے کے دوران شہباز شریف نے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ ہانگژو میں مختلف چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتوں کے دوران کئی مفاہمتی یادداشتوں اور اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں