وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان ایئر فورس کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، جو اسلام آباد میں ایک خاتون کو مبینہ اغوا سے بچانے کی کوشش کے دوران جان سے گئے۔
سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق نے ایک خاتون کی جان اور عزت کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کر کے بہادری اور فرض شناسی کی بے مثال مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ قوم ایسے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھے گی۔
شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دلائی جائے۔
دوسری جانب صدر آصف علی زرداری نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ایک بے گناہ خاتون کے تحفظ کے لیے جان قربان کرنا اعلیٰ انسانی اقدار اور قومی خدمت کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی ایک اہم شاہراہ پر اس نوعیت کا واقعہ پیش آنا تشویش ناک ہے، اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنانا ضروری ہے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بھی گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بے بس خاتون کی جان اور عزت بچانے کے لیے غیر معمولی جرات اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔
پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ کی حدود میں، ایئر یونیورسٹی کے قریب اور بحریہ یونیورسٹی کے سامنے پیش آیا۔ پولیس کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم طارق سرکاری کام کے سلسلے میں راولپنڈی جا رہے تھے کہ انہوں نے ایک شخص کو خاتون کو زبردستی موٹر سائیکل کی طرف کھینچتے دیکھا۔
پی اے ایف افسر نے گاڑی موڑی اور موٹر سائیکل کے قریب رک کر مداخلت کی۔ اس دوران خاتون مبینہ طور پر تحفظ کے لیے ان کی گاڑی کے قریب آ گئی۔ پولیس کے مطابق ملزم نے پہلے پی اے ایف افسر سے تکرار کی اور پھر ان پر فائرنگ کر دی۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ علی ناصر رضوی نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مرکزی ملزم کو واقعے کے 9 گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے مطابق خاتون اور ملزم جی سکس کے ایک کیش اینڈ کیری میں کام کرتے تھے، اور ملزم کبھی کبھار خاتون کو پک اینڈ ڈراپ بھی کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق واقعے کے روز ملزم خاتون کو کسی پارک یا دوسری جگہ لے جانا چاہتا تھا، جس پر خاتون نے مزاحمت کی، اور اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔