امریکی ریاست الاسکا میں ایک چھوٹا طیارہ برفانی جھیل میں گر کر جزوی طور پر ڈوب گیا، مگر پائلٹ اور اس کی دو بیٹیاں معجزانہ طور پر بچ گئیں۔ تینوں نے 12 گھنٹے شدید سردی میں طیارے کے ونگ پر گزارے، جہاں سے انہیں بحفاظت نکال لیا گیا۔
حادثہ 23 مارچ کو پیش آیا جب Piper PA-12 Super Cruiser طیارہ پرواز کے دوران Tustumena جھیل میں گر گیا۔ طیارے میں موجود پائلٹ اور اس کی دو نوجوان بیٹیاں Soldotna سے Skilak جھیل کا فضائی نظارہ کرنے جا رہے تھے۔ طیارہ گرنے کے بعد برفانی پانی میں جزوی طور پر ڈوب گیا، مگر خوش قسمتی سے مکمل غرق نہ ہوا۔
ان تینوں کو تلاش کرنے میں ایک اور پائلٹ، ٹیری گوڈیس نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 23 مارچ کو فیس بک پر لاپتہ طیارے کی پوسٹ دیکھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ طیارے میں لوکیٹر ڈیوائس موجود نہیں تھی۔ اگلے دن، وہ دیگر پائلٹس کے ہمراہ تلاش کے لیے نکلے اور بالآخر جھیل کے اوپر طیارے کا ملبہ دیکھ لیا۔
ٹیری گوڈیس کا کہنا تھا، “جب میں نے تباہ شدہ طیارہ دیکھا تو دل ٹوٹ گیا، مگر قریب جا کر حیران رہ گیا۔ میں نے طیارے کے ونگ پر تین افراد کو حرکت کرتے اور ہاتھ ہلاتے دیکھا۔” ان کی فوری اطلاع پر ریسکیو ٹیم پہنچی اور زخمی پائلٹ اور اس کی بیٹیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ ایک کرشماتی بچاؤ تھا۔ شدید برفانی سردی میں جہاں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے تھا، وہاں تینوں افراد کا زندہ بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔