پاکستان کی ٹیکنالوجی صنعت نوجوانوں کی مہارت کی بدولت تیزی سے ترقی کر رہی ہے: شزا فاطمہ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی صنعت نوجوان افرادی قوت کی صلاحیت اور مہارت کی بدولت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں ہواوے کے عالمی خدمات مرکز کے دورے کے موقع پر کہی۔

شزا فاطمہ کے مطابق پاکستانی ٹیکنالوجی ماہرین لاگت اور معیار دونوں اعتبار سے عالمی سطح پر مقابلے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی خدمات کے شعبے میں بڑھتی ہوئی شمولیت ملکی معیشت کے لیے اہم ہے اور یہ شعبہ زرمبادلہ کے حصول کا بھی ایک بڑا ذریعہ بن رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی برآمدات سالانہ تقریباً 20 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کو بھی دہرایا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے مقرر کردہ 25 ارب ڈالر کی انفارمیشن ٹیکنالوجی برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سرکاری معلومات کے مطابق شزا فاطمہ ملک کی انفارمیشن ٹیکنالوجی برآمدات کو آئندہ برسوں میں 25 ارب ڈالر تک لے جانے کے منصوبے کی نگرانی کر رہی ہیں۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان طویل عرصے سے قائم تعلقات ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہواوے پاکستان میں اپنی موجودگی اور سرمایہ کاری کو مزید وسعت دے گا۔

حالیہ دنوں میں ہواوے نے اسلام آباد میں پاکستان کا پہلا قومی سطح کا پرزہ جات مرمت مرکز بھی قائم کیا ہے۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق اس مرکز کا مقصد مقامی سطح پر مرمت کی صلاحیت بڑھانا، بیرونِ ملک خدمات پر انحصار کم کرنا اور ملک کے ٹیلی مواصلاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ملک سے آگے بڑھا کر ڈیجیٹل خدمات اور جدید حل تیار اور برآمد کرنے والے ملک میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ وزارت کے مطابق اس مقصد کے لیے نوجوانوں کی تربیت، عالمی سرمایہ کاری اور مقامی ٹیکنالوجی صنعت کی مسابقت بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں