"یوکرین کے خلاف جنگ میں پاکستان جنگجو بھی شامل ہیں”، پاکستان نے الزامات مسترد کر دیے

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ، روس کی جانب سے جاری جنگ میں مختلف غیر ملکی جنگجوحصہ لے رہے ہیں، جن میں پاکستانی اور چینی شہری بھی شامل ہیں۔

پیر کے روز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں زیلنسکی نے کہا کہ، انہوں نے وووچانسک کے اگلے محاذوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یوکرینی فوجیوں سے ملاقات کی اور کمانڈرز کے ساتھ دفاعی حکمت عملی، بھرتیوں، ڈرونز کی فراہمی اور بریگیڈز کو براہ راست فنڈنگ جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

زیلنسکی کے مطابق، ان کے دورے کے دوران یوکرینی فوجیوں نے انہیں بتایا کہ، روسی افواج کے شانہ بشانہ لڑنے والوں میں پاکستان، چین، ازبکستان، تاجکستان اور افریقی ممالک کے جنگجو بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ،ہم اس کا جواب دیں گے۔

تاہم، اب پاکستان نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ، روس اور یوکرین کی جنگ میں پاکستانی شہری بھی شریک ہیں۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ، یوکرین کی طرف سے اب تک اس معاملے پر حکومتِ پاکستان سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کے قابلِ تصدیق شواہد فراہم کیے گئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ، حکومتِ پاکستان اس معاملے پر یوکرینی حکام سے باضابطہ بات کرے گی اور ان الزامات کی وضاحت طلب کی جائے گی۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ، پاکستان، اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق، یوکرین کے تنازع کا پُرامن حل چاہتا ہے اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے خاتمے کی حمایت کرتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں