عالمی شہرت یافتہ امریکی باکسر محمد علی کی وفات کو آج 10 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر ان کے آبائی شہر لوئس ول میں ان کی یاد میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جبکہ دنیا بھر کے لوگوں سے ’’یومِ ہمدردی‘‘ منانے اور دوسروں کی خدمت کے عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
محمد علی کی اہلیہ لونی علی نے کہا ہے کہ ان کے شوہر کی میراث صرف عالمی اعزازات اور اولمپک طلائی تمغے تک محدود نہیں بلکہ وہ انسانیت، ہمدردی اور خدمتِ خلق کے ایک عظیم پیغام کے علمبردار تھے۔ ان کے بقول محمد علی ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ’’دوسروں کی خدمت وہ کرایہ ہے جو ہم زمین پر اپنے قیام کے بدلے ادا کرتے ہیں۔‘‘
1960 کی دہائی میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے محمد علی نے نہ صرف تین مرتبہ عالمی ہیوی ویٹ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا بلکہ شہری حقوق اور ویتنام جنگ کے خلاف بھی جرات مندانہ آواز بلند کی، جس کے باعث وہ دنیا کے بااثر ترین کھلاڑیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
محمد علی مرکز، جہاں ان کی اہلیہ تاحیات نگران کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، اس سال پہلی مرتبہ ’’یومِ ہمدردی‘‘ منا رہا ہے۔ منتظمین کی خواہش ہے کہ یہ دن ہر سال انسان دوستی، رضاکارانہ خدمات اور معاشرتی یکجہتی کے فروغ کے لیے منایا جائے۔
لونی علی نے کہا کہ امریکی معاشرہ تیزی سے تقسیم اور قطبیت کا شکار ہو رہا ہے، جہاں لوگ صرف اپنے جیسے خیالات رکھنے والوں تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ ہمدردی اور مساوات کو فروغ دے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
انہوں نے 2016 میں محمد علی کی آخری رسومات کے دوران لاکھوں افراد کی شرکت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر لوگوں نے جس اتحاد اور محبت کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی امید کی کرن ہے۔ ان کے مطابق ایک دہائی گزرنے کے باوجود محمد علی کا پیغامِ جرات، ایمان اور خدمت آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔