11 جون سے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے فیفا عالمی کپ 2026 میں جہاں تجربہ کار کھلاڑیوں کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی پر سب کی نظریں مرکوز ہوں گی، وہیں کئی نوجوان کھلاڑی بھی عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے لیے تیار ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دس نوجوان فٹبالرز ٹورنامنٹ کے دوران سب کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔
ترکیہ کے 21 سالہ کھلاڑی کینان یلدز کو عالمی فٹبال کے برائٹ نوجوان ٹیلنٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اطالوی کلب یووینٹس کے لیے شاندار کارکردگی دکھا چکے ہیں اور اب عالمی کپ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے خواہاں ہیں۔

ارجنٹینا کے 21 سالہ مڈفیلڈر نیکو پاز کو مستقبل کا بڑا ستارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انہیں کئی مبصرین لیونل میسی کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے رواں سیزن میں عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد گول اور اسسٹس فراہم کیں۔

برازیل کے 19 سالہ ونگر ریان بھی توجہ کا مرکز ہیں۔ نوجوان کھلاڑی نے حالیہ عرصے میں کلب اور قومی ٹیم دونوں کے لیے متاثر کن کارکردگی پیش کی ہے اور انہیں برازیل کے اگلے بڑے ستاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

میزبان ملک میکسیکو کے 16 سالہ مڈفیلڈر گلبرتو مورا نے کم عمری میں کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ وہ ملکی لیگ میں گول کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بنے اور اب عالمی کپ میں میکسیکو کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آئیوری کوسٹ کے 19 سالہ ونگر یان ڈیو مانڈے نے جرمن لیگ میں شاندار کھیل پیش کیا ہے۔ ان کی رفتار، ڈرِبلنگ اور گول کرنے کی صلاحیت نے انہیں یورپ کے نمایاں نوجوان کھلاڑیوں میں شامل کر دیا ہے۔

انگلینڈ کے 21 سالہ ہمہ جہت کھلاڑی نیکو او ریلی نے اس سیزن میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ وہ دفاع اور مڈفیلڈ دونوں میں کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے باعث انگلینڈ کے لیے اہم ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔

جرمنی کے 18 سالہ مڈفیلڈر لینارٹ کارل نے نوجوانی میں ہی اپنی صلاحیتوں سے متاثر کیا ہے۔ ان کی تیز رفتاری، مہارت اور گول کرنے کی صلاحیت انہیں جرمن ٹیم کا مستقبل قرار دلواتی ہے۔

کروشیا کے 19 سالہ دفاعی کھلاڑی لوکا وسکووچ یورپ کے بہترین نوجوان محافظوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا قد، جسمانی طاقت اور فضائی گیندوں پر کنٹرول انہیں منفرد بناتا ہے۔

جاپان کے 20 سالہ فارورڈ کیسوکے گوتو اپنی ٹیم کے کم عمر ترین کھلاڑی ہیں۔ قد آور اسٹرائیکر نے حالیہ سیزن میں مسلسل گول کرکے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا ہے۔

عراق کے 22 سالہ ونگر علی جاسم بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ بغداد میں پیدا ہونے والے علی جاسم مختلف ممالک کی لیگز میں کھیل چکے ہیں اور عراق کی 40 سال بعد عالمی کپ میں واپسی کے سفر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی کپ 2026 نہ صرف رونالڈو اور میسی جیسے عظیم کھلاڑیوں کے ممکنہ آخری عالمی کپ کے طور پر یاد رکھا جائے گا بلکہ یہی ٹورنامنٹ فٹبال کے کئی نئے عالمی ستاروں کو بھی متعارف کرا سکتا ہے۔