سینیٹ آف پاکستان نے بھارتی جارحیت کے خلاف وزیر خارجہ، اسحٰق ڈار کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔ قرارداد میں پاکستان کو پہلگام واقعے سے جوڑنے کی شدید مذمت کی گئی اور خبردار کیا گیا کہ، پاکستان پر کسی بھی حملے کی صورت میں منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
سینیٹ کا اجلاس چیئرمین، یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں آغاز ہی میں وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک منظور کی گئی۔ بعدازاں، وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے ایوان کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ، مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکتوں پر پاکستان نے مذمت کی ہے، تاہم بھارت نے حسب روایت واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔
اسحٰق ڈار نے واضح کیا کہ، پاکستان سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی اقدام کو یکسر مسترد کرتا ہے کیونکہ پانی 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی سے جڑا معاملہ ہے، اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی جانب سے اٹاری بارڈر کی بندش کے جواب میں پاکستان نے واہگہ بارڈر بند کردیا ہے، سارک ویزا اسکیم کے تحت بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، تاہم سکھ یاتریوں کو اس سے استثنیٰ حاصل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ، بھارت کے دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ قرار دے کر 30 اپریل تک ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی قونصل خانے کے عملے کی تعداد کم کرنے کے بھارتی اقدام کے جواب میں پاکستان نے بھی بھارتی قونصل خانے کے عملے کو محدود کردیا ہے۔ ساتھ ہی بھارت کے لیے تمام فضائی حدود بند کردی گئی ہیں اور ہر قسم کی دوطرفہ و تیسرے ملک کے ذریعے تجارت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ، پاکستان سفارتی محاذ پر بھی سرگرم ہے، 26 ممالک کے سفرا کو بریفنگ دی جا چکی ہے اور مزید ممالک کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ، پاکستان کی افواج ہر قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہیں، اور اگر کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو اسے ویسا ہی جواب دیا جائے گا جیسا ماضی میں دیا گیا۔
قائد حزب اختلاف، سینیٹر شبلی فراز نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے اسے ضروری قرار دیا ۔تاہم، انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ، 2019 میں پلوامہ واقعے کے بعد جس طرح کا مؤقف اپنایا گیا تھا، آج ویسی ہم آہنگی نہیں دکھائی دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ، آج حکومت اور عوام الگ الگ کھڑے ہیں، جبکہ سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد کو سیاسی مقدمات میں قید رکھا گیا ہے، جب تک عمران خان رہا نہیں ہوں گے، ملک میں سیاسی استحکام ممکن نہیں۔
پیپلزپارٹی کی سینیٹر، شیری رحمٰن نے کہا کہ، بھارت نے واقعے کے فوری بعد بغیر شواہد پاکستان پر الزام لگایا، یہ رویہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ، مودی حکومت نے پہلے دور میں ہی سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور آج اسی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر، ایمل ولی خان نے خطاب میں کہا کہ، بھارت کی سازشوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ تاہم، انہوں نے عمران خان کی تصویر لانے پر اعتراض کیا جس پر ایوان میں شور شرابہ ہوا اور ان کے الفاظ حذف کرا دیے گئے۔ ایمل ولی نے بھارت کے خلاف حکومتی اقدامات کو سراہا لیکن ساتھ ہی کہا کہ، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، دونوں ممالک کو امن کی راہ اپنانی چاہیے۔
بعد ازاں،اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔