مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اب عام کمپیوٹر صارفین کی جیب پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ دنیا بھر میں ریم کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ انٹیل کے چیف ایگزیکٹو لیپ بو تان کے مطابق میموری سمیت اہم ٹیکنالوجی پرزوں کی کمی آئندہ دو سے تین سال تک جاری رہ سکتی ہے۔
سنگاپور میں ڈی بی ایس بینک کے زیر اہتمام ایشیا فیوچر فارورڈ کانفرنس کے دوران انٹیل کے سربراہ نے ٹیکنالوجی انڈسٹری کے رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے درکار ہارڈویئر کی بڑھتی ہوئی طلب اور سپلائی چین کے مسائل نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اس صورت حال میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ریم، گرافکس پروسیسنگ یونٹس اور مرکزی پروسیسنگ یونٹس کی بڑی مقدار حاصل کر رہی ہیں۔ چونکہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری میں زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے، اس لیے میموری بنانے والی کمپنیوں کی توجہ بھی اس شعبے کی ضروریات پوری کرنے پر مرکوز ہو رہی ہے۔ نتیجتاً عام صارفین کے کمپیوٹرز کے لیے دستیاب پرزوں کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک ریڈار کے مطابق، بارکلیز کی ایک حالیہ مالیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ریم کی تھوک قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ معیاری ڈی ڈی آر فور ریم کی قیمت 24 فیصد، جبکہ نئی ڈی ڈی آر فائیو میموری کی قیمت 20 فیصد بڑھی ہے۔ ان اضافوں کا اثر کمپیوٹر کے پرزے خریدنے والے صارفین پر بھی پڑ رہا ہے۔
طویل مدتی صورت حال بھی فوری بہتری کی طرف اشارہ نہیں کرتی۔ بارکلیز کے تجزیہ کاروں کے مطابق، دنیا کی بڑی میموری ساز کمپنیوں میں شامل مائیکرون نے عالمی سطح پر ریم کی محدود رسد 2028 تک برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ اس اندازے کے تحت مارکیٹ میں نمایاں بہتری 2029 سے پہلے مشکل ہو سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹکس کے لیے میموری کی بڑھتی ضروریات کے باعث 2027 اور 2028 میں بھی قیمتوں اور رسد پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گیمنگ کمپیوٹر بنانے، پرانے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے یا نیا کمپیوٹر خریدنے والے صارفین کو زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑ سکتی ہیں۔
یوں مصنوعی ذہانت کی ترقی جہاں نئی ٹیکنالوجیز اور کاروباری مواقع پیدا کر رہی ہے، وہیں اس کے لیے درکار ہارڈویئر کی بڑھتی طلب عام صارفین کے لیے کمپیوٹر خریدنا اور اپ گریڈ کرنا مزید مہنگا بنا سکتی ہے۔